سید یوسف رضا گیلانی 19

کاروباری برادری کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، یوسف رضا گیلانی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ کاروباری برادری کو سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں، بالخصوص خزانہ، معاشیات، تجارت اور صنعت سے متعلق کمیٹیوں میں اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، مؤثر معاشی پالیسی سازی کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر چوہدری خادم حسین، رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی، سابق صدر میاں مصباح الرحمن اور میاں عزیز الرحمٰن چن نے بھی خطاب کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ٹیکسوں کے مسائل، ریگولیٹری مشکلات، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت کاروباری برادری کے حقیقی مسائل ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے لاہور کو تجارت، صنعت اور کاروباری سرگرمیوں کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کی کاروباری برادری روزگار کی فراہمی، صنعتی ترقی اور ملکی خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ ایسا قانونی اور پالیسی ماحول تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی جو کاروبار کے فروغ، جائز کاروباری مفادات کے تحفظ اور قومی معاشی ترجیحات کے حصول میں معاون ہو۔سید یوسف رضا گیلانی نے لاہور چیمبر پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی اداروں کے ساتھ اپنا رابطہ اور تعاون جاری رکھے، چیمبرز کا عملی تجربہ، تجاویز اور مختلف شعبوں سے متعلق معلومات قانون سازی اور پارلیمانی نگرانی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

کاروبار ترقی کرے گا تو روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگا۔لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے چیئرمین سینیٹ پر کاروبار سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے، ریگولیٹری مسائل حل کرنے اور کاروبار دوست ماحول کے قیام میں کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ کاروباری برادری کی براہِ راست نمائندگی یقینی بنانے کے لیے لاہور چیمبر کے صدر کو سینیٹ کی متعلقہ معاشی قائمہ کمیٹیوں کا ایکس آفیشیو رکن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوانین نے کاروبار کرنے میں آسانی اور لاگت کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے مختلف ریگولیٹری قوانین کے تحت صنعتی و تجارتی اداروں پر چھاپوں، ایف آئی آرز اور گرفتاریوں کے معاملات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کاروباری طبقے میں تشویش اور عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے۔علی حسام اصغر نے واضح کیا کہ کاروباری برادری قوانین پر عمل درآمد اور اصلاحات کے خلاف نہیں، تاہم ان کا طریقہ کار کاروباری افراد کے لیے ہراسانی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خلاف ورزیوں پر فوری ایف آئی آر اور گرفتاری کے بجائے جرمانے، آگاہی اور اصلاحی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور چیمبر کی قانونی ٹیم نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا)، انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سے متعلق قوانین کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور مشاورت کے بعد مجوزہ ترامیم تیار کرکے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کی ہیں۔صدر لاہور چیمبر نے چیئرمین سینیٹ سے وفاقی اور صوبائی سطح پر کاروبار سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے ایک خصوصی جائزہ کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی دی جو پہلے سے نافذ قوانین اور تجارت و صنعت پر ان کے اثرات کا جائزہ لے سکے۔سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس کی بنیادی ذمہ داری مؤثر پالیسی فریم ورک کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متوازن پالیسی سازی ممکن نہیں جب صرف بیوروکریسی کی رائے سنی جائے اور ان پالیسیوں سے براہِ راست متاثر ہونے والے اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل نہ کیا جائے۔

انہوں نے ضلعی سطح پر معاشی ترقی کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اسلام آباد میں مرکزی سطح پر بنائی جانے والی پالیسیاں ہر شہر اور ضلع کی مخصوص معاشی ضروریات پوری نہیں کر سکتیں۔ مقامی معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے شہری اور ضلعی حکومتوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔نائب صدر چوہدری خادم حسین نے چیئرمین سینیٹ کی لاہور چیمبر آمد پر شکریہ ادا کیا اور ان سے درخواست کی کہ صدر لاہور چیمبر اور کاروباری برادری کے دیگر نمائندوں کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل اور تجاویز کو متعلقہ پارلیمانی فورمز پر اجاگر کیا جائے۔رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے قانون سازی کے معاملات میں لاہور چیمبر کو تعاون کی پیشکش کی اور ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ میں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک قانونی سقم کے باعث 277 چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کی مدت دو سال سے کم ہو کر ایک سال رہ گئی تھی۔

ان کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے قانون سازی متعارف کرائی اور قومی اسمبلی و سینیٹ سے اس کی منظوری کے لیے کوششیں کیں۔سابق صدر لاہور چیمبر میاں مصباح الرحمٰن نے تجویز دی کہ لاہور چیمبر کے عہدیداروں اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین کو سینیٹ کا دورہ کرنے اور اجلاس کی کارروائی دیکھنے کا موقع دیا جائے۔اس موقع پر مومن علی ملک، سابق سینئر نائب صدر رحمن عزیز چن، سابق نائب صدور میاں زاہد جاوید، حارث عتیق، سہیل نثار اور امجد چوہدری، جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی اراکین مردان علی زیدی، عدیل بابر خان، سید یوسف جمیل، علی رضا، ساحر مشتاق، بہرام شاہ، ذوالفقار علی چوہدری، نائلہ ندیم، طارق محمود، سید عظمت علی، شہزاد علی، شاہد محمود، محمد یاسین، علی، چوہدری محمد فرغام، محمد علی اور شہزاد محمود بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں