اقوام متحدہ (رپورٹنگ آن لائن) اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سون لئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دوسری کمیٹی کے عام مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ عالمی ترقیاتی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے چار نکاتی تجاویز پیش کیں۔
پہلی،حکمتِ عملی کی درست سمت برقرار رکھتے ہوئے ترقی کو بین الاقوامی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت دینا۔ اس مقصد کے لیے پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے کے اہداف کو مختلف ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں سے ہم آہنگ کرنا، درمیانی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو بہتر بنانا اور پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
دوسری، عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے غربت کے خاتمے، غذائی اور توانائی کے تحفظ، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔
تیسری، عملی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے عالمی ترقیاتی تعاون کو درپیش اہم رکاوٹوں کو دور کرنا ۔ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ ترقیاتی اور موسمیاتی فنانسنگ سے متعلق اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں۔
چوتھی، “ایک ہی کشتی میں سوار” ہونے کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے اتحاد، مساوات، توازن اور باہمی مفاد پر مبنی عالمی ترقیاتی شراکت داری قائم کرنا ہے۔
سون لئی نے کہا کہ رواں سال گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے آغاز کی پانچویں سالگرہ ہے۔ چین تمام ممالک کے ساتھ مل کر گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کو آگے بڑھانے، 2030 کے ایجنڈے کی حمایت کرنے اور ایک زیادہ خوشحال دنیا کی تعمیر میں مزید کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔









