شہباز شریف 37

پُرامن، روادار اور متحد معاشرے کے قیام کے لیے عملی اقدامات کے لئے پُرعزم ہیں ، وزیراعظم کا پُرامن باہمی طرز زندگی کے عالمی دن پر پیغام

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پُرامن، روادار اور متحد معاشرے کے قیام کے لیے عملی اقدامات کے لئے پُرعزم ہے جہاں ہر شہری بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب با وقار زندگی گزار سکے۔ پُرامن باہمی طرز زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہو کر پُرامن باہمی طرز زندگی کا عالمی دن منا رہا ہے۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دن ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک پُرامن، ہم آہنگ اور متحد معاشرے کی تعمیر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ملکی سطح پر ایسے سماجی ماحول کی تشکیل جو امن کے فروغ کا باعث ہو بلا شبہ ہماری بصیرت افروز قومی وراثت اور آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے قومی ترجیحات کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ بحیثیت قوم ’’ہم قومی اور بین الاقوامی معاملات میں دیانت داری اور منصفانہ طرز عمل کے اصول پر یقین رکھتے ہیں اور اندرون و بیرون ملک امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ یہی اصول ہماری قابل فخر قومی شناخت ہے اور مزید ہم آہنگ اور متحد قومی و عالمی معاشرے کے قیام کی جانب ہماری جدوجہد کی بنیاد بھی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان پُرامن، روادار اور متحد معاشرے کے قیام کے لیے عملی اقدامات کے لئے پُرعزم ہے جہاں ہر شہری بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب با وقار زندگی گزار سکے۔ آئین پاکستان بھی ہر نوعیت بشمول صوبائی، نسلی، فرقہ وارانہ اور علاقائی تعصبات کے خلاف آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف زبانوں،کثیر الجہتی ثقافتوں، مسالک،اور تہذیبی روایات کا حامل ملک ہے، اور یہ سماجی و انفرادی تنوع پاکستان کی معاشرتی مضبوطی کا مظہر ہے۔ قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’’پیغامِ پاکستان‘‘سمیت مثبت قومی بیانیہ کا مقصد فکری، اور عملی انتہا پسندی کا خاتمہ ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کے آئینی تحفظ کے ساتھ ساتھ پالیسی و عملی اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی ضمن میں حکومت نے ’’قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق‘‘ تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، بچوں کا تحفظ اور محروم و کمزور طبقات کے حقوق کا فروغ ہے۔ ملک کے پہلے ’’قومی ایکشن پلان برائے کاروبار و انسانی حقوق‘‘ پر عمل درآمد جاری ہے جس کے ذریعے ذمہ دارانہ کاروباری طرز عمل، مزدوروں کے حقوق کا تحفظ، امتیازی سلوک کے خاتمے اور کاروباری سرگرمیوں سے جڑے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مؤثر ازالے کو فروغ دینا ہے۔ یہ پالیسی اقدامات ایک منصفانہ، مربوط اور مساوی معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ’’ہیومن رائٹس آگاہی پروگرام‘‘ کے ذریعے بھی جذبہ رواداری اور اتحاد و ہم آہنگی کو فروغ دے رہی ہے۔

مزید برآں،حکومت نے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ’’قومی کمیشن برائے انسانی حقوق‘‘ کے قیام اور فعالیت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صوبوں میں بھی ’’ضلعی انسانی حقوق کمیٹیاں‘‘ قائم کی گئی ہیں تاکہ مقامی سطح پر سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ ان اقدامات کو ’’ٹیکنالوجی کے ذریعے سہولت یافتہ صنفی بنیاد پر تشدد کے تدارک کی قومی حکمتِ عملی‘‘ اور اقلیتی فلاحی فنڈ کے ذریعے مزید تقویت دی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں حکومت نے ایسے قانونی اصلاحاتی اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں جو معاشرے میں مضر رسومات اور تشدد کے خاتمے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ان میں ’’آئی سی ٹی گھریلو تشدد کی روک تھام و تحفظ ایکٹ 2026‘‘ ، ’’آئی سی ٹی کم عمری کی شادی کی روک تھام ایکٹ 2025‘‘ اور ’’قومی کمیشن برائے حقوق اقلیت ایکٹ 2025‘‘ پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے اور وزارت اس کمیشن کے قیام کے مراحل مکمل کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تمام مجموعی اقدامات حکومتِ پاکستان کے اس غیر متزلزل عزم کا مظہر ہیں کہ ایک ایسا متحد، روادار اور پُرامن معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں ہر فرد پُرامن انداز میں عزت، مساوات اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوجوانوں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ برداشت، ہمدردی اور رواداری کی اقدار کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آئیے! ہم مل کر ایسے پاکستان اور ایسی دنیا کی تعمیر کریں جہاں اختلافات اور تقسیم کی جگہ خوشحال اور ہم آہنگ مستقبل یقینی ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں