ڈاکٹر عشرت العباد خان 34

ڈاکٹرعشرت العباد کا آئندہ وفاقی بجٹ عوام دوست بنانے کا مطالبہ، کراچی کیلئے خصوصی ترقیاتی پیکیج ناگزیر قرار

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)میری پہچان پاکستان کے روحِ رواں اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مطالبہ کیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ مکمل طور پر عوام دوست بنایا جائے تاکہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دبا کے شکار عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں متوسط اور غریب طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے، اس لیے حکومتی پالیسیوں کا مرکز عام آدمی ہونا چاہیے۔

انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے نمایاں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ملازمین اور پنشنرز شدید مالی دبا کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کم از کم 40 سے 50 فیصد اضافہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، جبکہ نجی شعبے میں کم از کم اجرت 60 سے 65 ہزار روپے مقرر کی جائے تاکہ محنت کش طبقہ باعزت زندگی گزار سکے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے فوری جامع معاشی ریلیف پیکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں واضح کمی لائے بغیر عوام کو حقیقی ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو شاہانہ اخراجات، غیر ضروری سرکاری پروٹوکول اور حکومتی عیاشیوں میں نمایاں کمی کرنا ہوگی تاکہ قومی وسائل عوامی فلاح پر خرچ کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ بلند شرح سود نے صنعتکاروں، تاجروں اور چھوٹے کاروباری طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر حکومت معاشی ترقی چاہتی ہے تو شرح سود میں کمی، صنعتوں کی بحالی، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو آسان قرضوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔انہوں نے زرعی شعبے کو ملکی معیشت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسان مہنگی کھاد، بجلی، پانی اور زرعی ادویات کے باعث پریشانی کا شکار ہیں، اس لیے بجٹ میں کسانوں کے لیے خصوصی سبسڈی، آسان قرضے اور زرعی مشینری پر ٹیکس میں کمی کی جائے تاکہ غذائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

سابق گورنر سندھ نے کراچی کو ملک کی معاشی شہ رگ قرار دیتے ہوئے شہر کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں انفراسٹرکچر، پانی کی فراہمی، سیوریج، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو تھرڈ پارٹی آڈٹ کے تحت مکمل کیا جائے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور کرپشن و تاخیر کا خاتمہ ہو۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کا مثر نظام موجود تھا، جس طرز کے نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مزید کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بھی آئندہ بجٹ میں خصوصی ترجیح دی جانی چاہیے کیونکہ جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور معیاری طبی سہولیات کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آئندہ بجٹ کو صرف اعداد و شمار کی دستاویز بنانے کے بجائے حقیقی عوامی ریلیف، شفافیت اور ترقیاتی وژن کا آئینہ دار بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں