اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پشاور سے اغواہونے والی بچی شکار پور کے علاقہ کوٹ شاہو تھانہ کی حدود میں رکھی گئی ہے جہاں آپریشن جاری ہے اور ایک ڈاکو مارا گیا ہے، بچی کو جلد بازیاب کرایا جائے گا۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں جمال خان کاکڑ نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ کچے کے علاقے کے ڈاکوئوں نیپشاور کی 11 سالہ بچی کو اغواکیا اور تاوان میں 15 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا ،جب اس کی والدہ یہ رقم لے کر اسے چھڑانے گئی تو اس کے ساتھ زیادتی کی گئی،انہیں بازیاب کرایا جائے اور یہاں آپریشن کرایا جائے۔ اس کے جواب میں طلال چوہدری نے بتایا کہ کچے کے علاقے میں پنجاب میں ایک ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے یہاں اب کوئی نوگو ایریا نہیں ہے،اسی طرح سندھ میں کارروائی ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز سینیٹ میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
یہ بچی ڈاکو علی گوہر جتوئی کے قبضے میں ہے،ان کے قبیلہ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیاجارہا ہے کہ یہ بچی خریدی گئی۔اس میں ملوث کچھ خواتین کو گرفتار کیاگیا ہے۔وہاں آپریشن جاری ہے۔ آج ایک ڈاکو مارا گیا ہے۔ وہاں سے ایک کرسچین جنیفر کو بھی بازیاب کرایا گیا ہے۔ایس ایس پی آپریشن کو لیڈ کررہے ہیں۔آئی جی سندھ سے مکمل رابطہ ہے۔یہ بیٹی کوی قوم یا صوبے کی نہیں پاکستان کی ہے اسے جلد رہا کرایا جائے گا۔









