کراچی (رپورٹنگ آن لائن) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا شہر قائد میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پہلی پورٹ بنائیں گے
شہرِ قائد میں بلاول بھٹوکا شاہراہ بھٹو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کودعوت دیتا ہوں این آئی سی وی ڈی کا دورہ کریں، پورے پاکستان سے لوگ کراچی آنا چاہتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی میں عالمی معیار کے مطابق مفت علاج کیا جا رہا ہے، ملک بھر اور صوبہ بھر میں منصوبوں کا افتتاح کرتا آیا ہوں، کراچی میں پیدا ہوا یہاں کے منصوبوں کا افتتاح کرنے میں دِلی خوشی ہوتی ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ 2008 سے آج تک جتنے منصوبے بنے ہیں وہ کراچی کی تاریخ میں نہیں بنے، 1947 سے لے کر 2008 تک گنتی کریں جو ترقیاتی کام ہوئے وہ پیپلز پارٹی کے دور میں ہوئے ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا عوام کو پاکستان سٹیل کا تحفہ دیا، شارع فیصل، لیاری ایکسپریس وے پیپلز پارٹی نے دیے، دِل کھول کر دعوت دیتے ہیں کہ آئیں کام کرکے ملک کی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں۔
اُنہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا ہیلتھ کیئر حب ہے ، این آئی سی وی ڈی کا حال دیکھیں کہ 18 ویں آئینی ترمیم سے پہلے کیا تھا اب کیا ہے، شہر کے ہر ضلع میں چیسٹ پین یونٹ کھو لے اور عالمی سطح کے علاج کا ہم نے بندو بست کیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ سیاست میں اس لئے آیا ہوں کہ شہید بے نظیر بھٹو کے نامکمل جدوجہد کو مکمل کرنا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ہر جیالے کے لئے آج فخر کا دن ہے، بے نظیر بھٹو کا یہ خواب مکمل کرکے دکھایا ہے، جنوری 2025 میں پہلے فیز کا افتتاح کیا اور اِس منصوبے کو مکمل کرکے دکھایا ہے، شہید بے نظیر بھٹو کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنایا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو کا خواب تھا کہ تھرکول سے مقامی لوگوں کو فائدہ ہو، جس طرح تھرکول منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا اسی طرح یہ منصوبہ مکمل کیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس وقت مشکل میں ہیں معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اسرائیل و امریکہ کی جنگ سے ایران کے ساتھ اس کا معاشی بوجھ آپ اٹھا رہے ہو، اس جنگ کا بوجھ دنیا بھر کے غریب اٹھا رہے ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس وقت جو بھی محنت کر رہا ہے اگر امن ہوگا تو معاشی مشکلات میں کمی ہوگی، اگر جنگ ختم نہیں ہوگی تو خوف ہے کہ معاشی مشکلات بہت سنگین ہوں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اِس جنگ کو ختم کرنے کے لئے محنت کر رہے ہیں ، ہم امن پسند لوگ ہیں، پیپلز پارٹی جنگ کے خلاف رہی ہے، معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لئے سب دُعا گو ہیں کہ جنگ بندی کی کوششیں کامیاب ہوں تاکہ معاشی مشکلات کم ہو۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ محدود وسائل میں عوام کی معاشی مشکلات کم کرنےکی کوشش کر رہے ہیں، کسان کارڈ کے ذریعے کسانوں کو ریلیف دے رہے ہیں، موٹرسائیکل سوار کو سبسڈی دے رہے ہیں، ماہی گیروں کو بھی ریلیف فراہم کریں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے پاس اتنی فیسکل سپیس نہیں کہ ہر شہری کو ریلیف دے سکیں، ایسےمنصوبے لانا ہوں گے جس سےعوام کو روزگارکے مواقع ملیں، کاروباری طبقے کو آسانیاں پیدا کی جائیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں پاکستان میں اس خطے میں لیڈ کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں سندھ فنانشل سینٹربنانا پڑے گا، سندھ فنانشل سینٹر کے ذریعے دنیا کا مقابلہ کرسکتےہیں، پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی کرنے والا شہر کراچی ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ثابت کر دیا ہے کہ پیپلزپارٹی ڈیلیور کر سکتی ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پہلی کے ٹی پورٹ بنائیں گے، ہم کاروباری طبقے کے ساتھ مل کر کنسورشیم بنائیں گے، کاروباری طبقے کے ساتھ ملکر بڑے بڑے منصوبوں کو مکمل کرکے دکھائیں گے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ تھر کو بدلا ویسے ہی کے ٹی بندرگاہ کو بنا کر کراچی کے عوام کی تقدیر بدل دیں گے، ہم نے سنا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو بجٹ میں اہمیت دی جا رہی ہے، ہم پورے کوسٹل ایریا کو بدل کر دکھائیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ جب کیٹی بندر پورٹ بنے گا تو ٹھٹھہ، سجاول، بدین کے عوام کی قسمت بدل جائے گی، میڈ ان پاکستان پروڈکشن میں کراچی کردار ادا کرے، دنیا میں پاکستان کے ڈیفنس پروڈکشن کی بڑی ڈیمانڈ ہے، جب پاکستان نے بھارت کا مقابلہ کیا تو میڈ اِن پاکستان کی ڈیمانڈ بڑھ گئی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کا ایم کیو ایم پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہنا تھا کہ کہاں بنایا ہے آپ نے شاہراہ الطاف حسین؟ کہاں بنایا ہے آپ نے الطاف حسین ہسپتال؟ کسی کی بھی حکومت ہو تو یہ ہر حکومت کے تاحیات وزیر ہوتے ہیں، ہمارے ساتھ مل کر کام کریں گے تو شہر، صوبہ اور ملک ترقی کرے گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر مل کر کام نہیں کرنا لڑنا ہے تو پیپلز پارٹی لڑنا بھی جانتی ہے، خطے کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے، معاشی مشکلات کےدوران عدم استحکام کا وقت نہیں ہے، یہ وقت متحد ہو کر عوام کی مشکلات کم کرنے کا ہے۔









