لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نکاح نامے میں درج رقم یا زیورات شوہر طلاق کے بعد بھی ادا کرنے کا پابند ہوگا اور اگر زیورات فراہم نہ کیے جائیں تو بیوی ان کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق رقم لینے کی حقدار ہوگی۔یہ فیصلہ جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے عامر علی کی درخواست پر سنایا، عدالت نے واضح کیا کہ نکاح نامے میں درج تمام اشیا، چاہے وہ رقم ہو یا زیورات، مجموعی طور پر حق مہر کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کی علیحدہ علیحدہ ادائیگی ضروری ہے۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی شادی 2011ء میں ہوئی تھی، جس میں حق مہر کے طور پر پانچ ہزار روپے، پانچ تولہ چاندی اور دس تولہ سونا نکاح نامے میں درج کیا گیا تھا، خاتون کا مقف تھا کہ طلاق کے بعد سابق شوہر نے زیورات ادا نہیں کیے جبکہ شوہر نے دعوی کیا کہ صرف نقد رقم طے تھی اور باقی اندراج جعل سازی کے ذریعے شامل کیا گیا۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ گواہوں نے نکاح نامے کی تصدیق کی اور درخواست گزار نے بھی اپنے دستخط تسلیم کیے تاہم وہ جعلی اندراج ثابت کرنے میں ناکام رہا، عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سابقہ بیوی نے نکاح نامے کی مصدقہ کاپی ٹرائل کورٹ میں پیش کی تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ فیملی کورٹ کا فیصلہ شواہد اور ریکارڈ کے مطابق درست تھا اور ہائیکورٹ صرف اسی صورت مداخلت کرتی ہے جب فیصلہ قانون کے منافی ہو، چنانچہ عدالت نے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شوہر کو حق مہر کی مکمل ادائیگی کا پابند قرار دے دیا۔









