سندھ ہائی کورٹ 10

80ء کے مالیاتی فراڈ ریفرنسز، سزا یافتہ 9 ملزمان کی سزائیں برقرار رکھنے کا حکم

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ نے 80ء کی دہائی کے مالیاتی فراڈ کے ریفرنسز میں سزا یافتہ 9 ملزمان کی 14 اپیلوں پر سزائیں برقرار رکھنے کا حکم دے دیا جبکہ عدالتِ عالیہ نے وفات پانے والے 7 ملزمان کی سزائیں ختم کر دیں تاہم وفات پانے والے ملزمان کی جائیدادوں کی ضبطگی برقرار رکھنے کا حکم دیا ،4 ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کر دیاگیا۔

جمعرات کو سماعت کے دوران جسٹس خالد حسین نے کہا کہ کاروبار کے نام پر فراڈ سے عوام کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا.پراسیکیوٹر نیب نے سماعت کے دوران بتایا کہ فراڈ کی بنیاد 1979ء اور 1980ء کے دوران رکھی گئی تھی۔نیب کی جانب سے بتایا گیا کہ بااثر شخصیات نے اثر و رسوخ استعمال کر کے لوگوں کو اسکیم کی جانب راغب کیا، جس کے بعد 50 ہزار افراد نے رقوم فراڈ اسکیم میں جمع کروائیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 1987ء میں اسٹیٹ بینک کی نگرانی سخت ہونے پر ملزمان نے نجی کمپنی قائم کی، عوام سے حاصل کی گئی رقوم سے 32 ذیلی کمپنیاں بنائی گئیں اور ملزمان نے خاندان کے افراد اور ملازمین کے ناموں پر درجنوں جائیدادیں بھی خریدیں۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 1988ء میں اسکیم ناکام ہونے پر سرمایہ کاروں نے اپنی رقوم کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر سندھ ہائی کورٹ نے 1989ء میں آفیشل اسائنی کو بطور لیکویڈیٹر مقرر کیا تھا، اسائنی کے پاس 3 ارب 64 کروڑ 99 لاکھ روپے مالیت کے 49 ہزار 139 دعوے جمع ہوئے، نیب نے تحقیقات کے بعد 2003ء میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ پراسیکیوشن نے ریوینیو ریکارڈ سے شہریوں سے رقم وصولی ثابت کی تھی اور احتساب قانون کے تحت جرم سے حاصل جائیداد کی ضبطگی ملزم کی وفات سے ختم نہیں ہو سکتی، ملزم کی وفات سے جائیداد کی ضبطگی ختم ہو جائے تو سرمایہ کار اپنے حقوق سے محروم رہ جائیں گے۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آفیشل اسائنی اثاثوں کی نگرانی، ریکوری، فروخت اور سرمایہ کاروں میں تقسیم کا عمل جاری رکھے، نیب اور دیگر متعلقہ ادارے اثاثوں کی تلاش میں آفیشل اسائنی کی معاونت کریں۔واضح رہے کہ احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف 2007ء اور 2012ء میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں