صدر زر داری 12

عالمی برداری اور شہری ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی سنگینی کو سمجھیں، صدر زر داری

اسلا م آباد (رپورٹنگ آن لائن) صدر مملکت آصف علی زر داری نے کہاہے کہ عالمی برداری اور شہری ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی سنگینی کو سمجھیں۔ عالمی یومِ ماحولیات پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہاکہ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر میں اپنے شہریوں اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی سنگینی کو سمجھیں۔انہوںنے کہاکہ بڑھتا درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، پگھلتے گلیشیئرز ، پانی کی قلت، حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور ماحولیاتی انحطاط اب مستقبل کے نہیں بلکہ موجودہ وقت میں ہی دنیا بھر میں انسانی زندگیوں اور معیشتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اس سال عالمی یومِ ماحولیات کا مرکزی موضوع موسمیاتی اقدام ہے،یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ آج کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے معیارِ زندگی کا تعین کریں گے۔ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صحتِ عامہ، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان موسمیاتی تغیر کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، حالانکہ گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ ہمارے کسان بدلتے ہوئے موسموں کا سامنا کر رہے ہیں، ہماری بستیاں سیلابوں اور شدید گرمی کی زد میں آ رہی ہیں اور ہمارے قدرتی وسائل پر دبا بڑھ رہا ہے۔

گلوبل وارمنگ کے ساتھ ساتھ ایل نینو جیسے موسمی مظاہر ان خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور کمزور طبقات اور معیشت پر اضافی دبا ڈال سکتے ہیں۔ خواتین، بچے اور دیگر کمزور طبقات ان چیلنجز کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عام شہریوں پر ماحولیاتی انحطاط کے براہ راست اثرات ہوتے ہیں۔ اس سے صاف پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے، زرعی پیداوار کم ہو سکتی ہے، روزگار کے ذرائع متاثر ہو سکتے ہیں اور عوامی خدمات کے اداروں پر مزید دبا پڑ سکتا ہے۔ شدید موسمی حالات گھروں، اسکولوں، سڑکوں اور صحت کے مراکز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے عوام کی روزمرہ زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر عملی اقدامات ضروری ہیں جن میں پانی کا دانشمندانہ استعمال، فضلہ کم کرنا، جنگلات کا تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا شامل ہیں۔ ماحولیاتی ذمہ داری کے اقدامات کو ہمارے گھروں، اسکولوں، کاروباری اداروں اور سرکاری اداروں میں عملی طور پر اپنانا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ میں نوجوانوں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماں، میڈیا اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ آگاہی پھیلانے اور عملی حل تلاش کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔ ہمارے نوجوانوں کی توانائی، جدت اور عزم ایک ماحولیاتی طور پر ذمہ دار مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔صدرنے کہاکہ پاکستان ماحولیاتی اور موسمیاتی امور پر بین الاقوامی تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ ہم ماحولیاتی نظام کی بحالی، قابلِ تجدید توانائی، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط ترقی کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔انہوںنے اپیل کی کہ آئیے، ہم ماحول کا تحفظ کرنے، قدرتی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ پاکستان بنانے کے عزم کا اعادہ کریں۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں