قمر زمان کائرہ 12

ملاقاتوں سے یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے اتحاد چھوڑرہے ہیںیاکوئی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے’ قمر زمان کائرہ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے اور آئینی راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتی ہے اس لیے جہاں نئے صوبوں کی ضرورت ہو اور عوام کی جانب سے اس کا مطالبہ موجود ہو وہاں آئینی طریق کار کے تحت نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں،سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیںیہ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ اس کی مخالف جماعت جیے سندھ اور دیگر سندھ قوم پرست جماعتوں کا بھی موقف ہے ،

صدر آصف علی زرداری کا موقف بھی پیپلز پارٹی کے اس اصولی موقف سے مختلف نہیں۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کے ذریعے صوبے نہیں بنائے جاتے،ایم کیو ایم کو یہ مطالبہ کرنے اور اسے عوام کے سامنے رکھنے کا حق حاصل ہے تاہم اگر عوام نے اس موقف کو قبول کرلیا تو ایم کیو ایم آئینی اور قانونی طریق کار کے تحت آگے بڑھتے ہوئے صوبے کے قیام کی کوشش کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عمران خان کی حکومت کے دور میں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں تھی اور عمران خان کے جیل جانے کے بعد بھی مذاکرات کی خواہش برقرار رکھی تاہم پی ٹی آئی ہمارے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ عمران خان کو پہلے ہی یہ موقع دیدیا جاتا کہ وہ جہاں سے چاہتے اپنا علاج کرا لیتے۔ اب عدالت نے انہیں یہ موقع دیا ہے جو ان کے علاج کے حوالے سے ایک ریلیف ہے تاہم وہ اس وقت بھی ایک سزایافتہ قیدی کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا موقف عمران خان کے حکومت میں آنے کے وقت بھی یہی تھا کہ سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا چاہیے،جب ہم اپوزیشن میں تھے اور عمران خان اپوزیشن میں گئے تب بھی ہم یہی کہتے رہے اور جب عمران خان جیل گئے تو اس وقت بھی ہمارا یہی موقف تھا۔

پی ٹی آئی یا اس وقت کی اپوزیشن ہمارے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھی اور نہ ہی وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار تھی تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے ہمیشہ مذاکرات اور سیاسی رابطوں کی کوشش کی گئی ہے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اپوزیشن، حکومت، اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کا مل بیٹھ کر ملک کو درپیش مسائل، فکری امور اور بحرانوں پر غور کرنا، باہمی تبادلہ خیال کرنا اور ایک دوسرے کے موقف کو تسلیم کرنا ایک مستحسن عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے روز سوال کیا جاتا ہے کہ آپ حکومت سے الگ کیوں نہیں ہوتے، ایسا کیوں نہیں کرتے اور حکومت کے ساتھ کیوں بیٹھتے ہیں؟ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اس لیے کرتے ہیں کہ اگر ہمیں کسی پالیسی میں غلطی نظر آتی ہے یا وہ ہمارے منشور کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو ہم اس کی نشاندہی کرتے ہیں اور اسے درست کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ اس لیے دیتی رہی ہے کہ ملک کو اس وقت ایک نازک صورتحال کا سامنا ہے اور ہماری قیادت اندرونی و بیرونی محاذ پر ملک کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

اگر بلاول بھٹو زرداری قائد حزب اختلاف سے مل رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نفرتیں ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ ہماری پہلے سے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔۔اپوزیشن جماعتوں سے ہونے والی ملاقاتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ پیپلز پارٹی حکومت چھوڑنے جا رہی ہے یا حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں