واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مسلسل تیسرے روز حملوں، بحری ناکہ بندی کے باوجود کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جی ہاں، میرے خیال میں معاہدہ ممکن ہے، بالکل ممکن ہے۔ دو دن پہلے ہمارے پاس ایک معاہدہ تھا، لیکن پھر انہوں نے کہا کہ ہم یہ معاہدہ نہیں کر سکتے، ہمیں اس پر مزید مذاکرات کرنے ہوں گے۔
اس کے علاوہ قدامت پسند ریڈیو کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہیں، ایران کے انتہائی محفوظ جوہری مرکز کوہ کولانگ گزلا کو ممکنہ ہدف قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہم پک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کر دیں گے، ایرانیوں سے کہہ دیں تیار رہیں وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔
واضح رہے کہ یہ جوہری تنصیب ایران کے وسطی علاقے میں زاگرس پہاڑی سلسلے کے اندر سرنگوں میں قائم انتہائی مضبوط اور محفوظ مرکز سمجھی جاتی ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، اینٹی ایئر کرافٹس سب ختم ہو گئے، ایران کے تمام رہنما مارے جا چکے ہیں، ان کے بہترین لیڈر مارے گئے ہیں اور 90 فیصد امکان ہے کہ ان کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای بھی زندہ نہیں ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی اور نئے سیکیورٹی نظام کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو آئندہ ’آبنائے ہرمز کا محافظ‘ کے نام سے جانا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف نافذ کی جانے والی اس ناکہ بندی کا اطلاق صرف ایرانی جہازوں اور ان سے تیل خریدنے والے ممالک یا خریداروں پر ہوگا جبکہ ایران کے علاوہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز آزادانہ طور پر استعمال کرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور تحفظ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے امریکا وہاں سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد کی شرح سے فیس وصول کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور نئے طریقۂ کار پر فوری عملدرآمد شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ اس اقدام کا مقصد اہم عالمی بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔









