میاں تنویر سرور
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاہور ریجن سی میں سینکڑوں گاڑیوں کی مبینہ بوگس ٹرانسفر، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے سنگین الزامات پر 11 افسران کے خلاف پنجاب ایمپلائز
ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی (پیڈا) ایکٹ 2006 کے تحت باقاعدہ انکوائری کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران اور اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے اے ڈی آر کے تحت گاڑیوں کی ملکیت کی تبدیلی کے عمل میں سنگین بے ضابطگیاں کیں اور مبینہ طور پر وزارتِ خارجہ سے منسوب جعلی پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر سینکڑوں گاڑیوں کی ملکیت غیر قانونی طریقے سے تبدیل کی۔

انکوائری آرڈر کے مطابق ایکسائز انسپکٹر خالد بشیر پر 1425 گاڑیوں کی مبینہ بوگس ٹرانسفر کا الزام ہے۔
اسی طرح انسپکٹر نذیر بھٹی پر 403 گاڑیوں، انسپکٹر غلام رضا وٹو پر 448 گاڑیوں اور ایکسائز انسپکٹر محمد ریاض پر 199 گاڑیوں کی ملکیت کی مبینہ غیر قانونی تبدیلی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
مزید برآں ایکسائز انسپکٹر امجد بھٹی پر 90 گاڑیوں جبکہ انسپکٹر محمد نوید پر 39 گاڑیوں کی مبینہ بوگس ٹرانسفر کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
محکمانہ انکوائری میں متعلقہ افسران اور اہلکاروں پر 7 مارچ 2024 کو جاری کردہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ انکوائری کے دوران اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ گاڑیوں کی ملکیت کی تبدیلی کے لیے پیش کی جانے والی دستاویزات کی قانونی حیثیت اور تصدیق کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کیا گیا۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے ڈایریکٹر بہاولپور کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ الزامات کی مکمل چھان بین کرکے 60 روز کے اندر اپنی رپورٹ اور سفارشات سیکرٹری کو پیش کریں۔
انکوائری کے دوران محکمہ ایکسائز کے ریٹائرڈ افسر محمد ناظم اسد کے ممکنہ کردار کا بھی تعین کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مبینہ بے ضابطگیوں میں ان کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔
انکوائری افسر کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں معاملہ محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھجوانے یا متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرانے کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرے









