ہائیکورٹ 15

لاہور ہائیکورٹ نے زیادتی کیس کے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کر دی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے خاتون سے زیادتی کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جس میں جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس محمد امجد رفیق شامل تھے، نے مجرم مناظر علی کی سزا کے خلاف اپیل پر 7صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے مجرم کو سنائی گئی 25سال قید کی سزا اور متاثرہ لڑکی کو 5لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ڈی این اے شواہد نے ملزم کے خلاف الزام ثابت کیا۔ عدالت نے سپرم فریکشن سے حاصل ہونے والے ڈی این اے کو مضبوط فرانزک شہادت قرار دیا، جبکہ ایپی تھیلیل فریکشن میں ڈی این اے نہ ملنے کو ملزم کے حق میں قابلِ فائدہ قرار نہیں دیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ میڈیکل اور فرانزک شواہد سے زیادتی کا جرم ثابت ہوتا ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کا بیان قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید ہے۔عدالت نے کہا کہ پراسیکیوشن نے مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کیا، جس کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی اپیل خارج کر دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں