شیری رحمان 15

فضائی آلودگی بھی خطرناک سطح تک بڑھ چکی ہے جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے،شیری رحمن

اسلام آباد ( رپورٹنگ آن لائن)نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ فضائی آلودگی بھی خطرناک سطح تک بڑھ چکی ہے جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے،تمام چیلنجز کے باوجود صاف توانائی کے فروغ، وسیع پیمانے پر شجرکاری، پانی کے تحفظ اور جدید فضلہ مینجمنٹ کے ذریعے بہتری ممکن ہے۔

ماحولیات کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں انہوںنے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں رہی بلکہ ایک موجودہ اور سنگین حقیقت ہے جو ہماری معیشت، غذائی تحفظ اور آبی وسائل کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ 30 برسوں کے دوران پاکستان کو ماحولیاتی آفات کے باعث تقریباً 59 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے ہماری کمزوریوں کو مزید واضح کر دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پانی کا بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکا ہے اور فی کس پانی کی دستیابی 5000 کیوبک میٹر سے کم ہو کر 1000 کیوبک میٹر سے بھی نیچے آ چکی ہے جس کے باعث پاکستان شدید آبی دباؤ کا شکار ہے۔

شیری رحمن نے کہاکہ *گلیشیئرز اور میٹھے پانی کے ذخائر تیزی سے خطرات کی زد میں ہیں جبکہ ملک میں ہر سال تقریباً 50.79 ملین ٹن ٹھوس فضلہ اور قریباً 3 ملین ٹن پلاسٹک کچرا پیدا ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ فضائی آلودگی بھی خطرناک سطح تک بڑھ چکی ہے جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ اسلام آباد میں 2026 میں پلاسٹک بک کورز پر پابندی کا قانون ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے جو سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور ماحول کے تحفظ کی جانب ایک قابلِ تحسین قدم ہے،

انہوںنے کہاکہ ان تمام چیلنجز کے باوجود صاف توانائی کے فروغ، وسیع پیمانے پر شجرکاری، پانی کے تحفظ اور جدید فضلہ مینجمنٹ کے ذریعے بہتری ممکن ہے۔ انہوںنے کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف باتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں کیونکہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ ہمیں چاہیے کہ ہم پانی کے استعمال میں احتیاط کریں، درخت لگائیں، پلاسٹک کے استعمال کو کم کریں اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور سرسبز پاکستان یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں