نیویارک (رپورٹنگ آن لائن)اقوام متحدہ نے افغانستان میں طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ ملزمان کو بطور سزا کوڑے مارنے اور پھانسی دینے کا سلسلہ بند کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد سے سرعام پھانسی، کوڑے مارنے اور سنگسار کرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے طالبان سے ان سزاوں پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد دسمبر 2022 میں پہلی بار قتل کے ایک مجرم کو سرعام مقتول کے والد سے گولی مروا کر موت کی سزا دی گئی تھی۔ سرعام پھانسی یا موت کی سزا دینے کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔اسی طرح سرعام کوڑے مارے جانے کا پہلا واقعہ اکتوبر 2021 میں شمالی صوبہ کاپیسا میں سامنے آیا تھا۔ کوڑے کی سزا پسند کی شادی کے لیے گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کو بھی دی گئی۔رپورٹ کے مطابق طالبان نے 2010 سے اگست 2021 کو اقتدار سنبھالنے سے قبل تک اپنی شورش کے عروج کے دوران ایسی سزائیں سنائیں جس میں 213 افراد ہلاک اور 64 زخمی ہوئے تھے۔









