آیت اللہ خامنہ ای 8

آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین، 2کروڑ لوگوں کی آمد متوقع، ملک بھر میں فوج ہائی الرٹ

تہران (رپورٹنگ آن لائن)ایران اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے انتظامات کر رہا ہے۔

اس موقع پر سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور ملک کی سرحدوں پر پہرا مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرام نیا نے سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا کہ مختلف ممالک سے آنے والے اعلی حکام، مذہبی اور سیاسی رہنماں کی آمد کو محفوظ بنانے کے لیے ایرانی فورسز کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ زمینی، بحری اور فضائی افواج نے ملک کی سرحدوں پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے تاکہ ہر طرح سے حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ایران کی فضائی دفاعی فورس فضائی حدود کی دن رات کڑی نگرانی کر رہی ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا یہ سلسلہ چھ دنوں تک جاری رہے گا جو ایران اور پڑوسی ملک عراق کے پانچ مختلف شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔یہ رسومات ہفتے کے دن سے شروع ہوں گی، تہران کے بڑے مصلی کمپلیکس میں ان کا جسدِ خاکی رکھا جائے گا اور پیر کے دن تہران کی سڑکوں سے جنازے کو جلوس کی صورت میں گزارا جائے گا۔اس کے بعد سات جولائی کو ان کے جسدِ خاکی کو مقدس شہر قم لے جایا جائے گا اور پھر وہاں سے عراق کے شہروں نجف اور کربلا منتقل کیا جائے گا۔ ان تمام شہروں میں رسومات کی ادائیگی کے بعد نو جولائی کو انہیں تدفین کے لیے دوبارہ ایران میں ان کے آبائی شہر مشہد لایا جائے گا۔

حکام کا اندازہ ہے کہ ان آخری رسومات میں ملک اور دنیا بھر سے تقریبا پندرہ سے بیس ملین یعنی ڈیڑھ سے دو کروڑ سوگوار شرکت کریں گے، جس کی وجہ سے پولیس کو انتہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس موقع پر دنیا کے تیس سے زیادہ ممالک بشمول روس، چین، پاکستان، بھارت، جارجیا اور کیوبا کے بڑے رہنما اور نوے ممالک کے مذہبی پیشوا شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، جنہوں نے امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ کو ختم کرانے کے لیے سب سے آگے بڑھ کر کوششیں کی ہیں، انہوں نے بھی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ اس جنازے میں شرکت کے لیے خود ایران جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں