ہائیکورٹ 49

شوہر حق مہر کے علاوہ علیحدہ معاہدے میں درج چیزیں دینے کا پابند قرار

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے شوہر کی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حق مہر کے علاوہ علیحدہ معاہدے میں درج چیزیں دینے کا پابند قرار دے دیا۔جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

فیصلہ میں لکھا گیا کہ شوہر نکاح نامے میں درج حق مہر کے علاوہ علیحدہ معاہدے میں درج چیزیں بھی بیوی کو دینے کا پابند ہے، علاوہ ازیں عدالت نے علیحدہ معاہدے میں لکھا گیا 5 مرلے کا گھر بیوی کو دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔

تحریری فیصلہ میں لکھا گیا کہ خاتون نے حق مہر میں 5 مرلہ گھر اور عدت خرچہ کی وصولی کیلئے دعویٰ دائر کیا تھا، خاتون کے مطابق شوہر نے شادی کے روز الگ معاہدے میں 5 مرلہ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا، حق مہر بیوی کا قانونی حق ہے شوہر کی مرضی یا احسان نہیں ہے جبکہ حق مہر کو قانون میں بیوی پر شوہر کا قرض تصور کیا جاتا ہے۔

فیصلہ میں مزید بتایا گیا کہ شادی کے دوران حق مہر کا مطالبہ نہ کرناخاتون کے حق سے دستبرداری نہیں سمجھا جاسکتا، معاشرتی اور گھریلو دباؤ کے باعث خواتین اکثر شادی کے دوران حق مہر طلب نہیں کرتیں، حق مہر زبانی، تحریری یا بعد میں بھی طے کیا جاسکتا ہے تاہم مسلم قوانین شوہر کو شادی کے بعد بھی حق مہر بڑھانے کی اجازت دیتا ہے۔

عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ خاندان کے معاملات میں عدالتیں صرف تکنیکی نہیں بلکہ سماجی حقائق کو بھی مدنظر رکھتی ہیں، فیملی کورٹس کا مقصد خاندانی تنازعات کو انصاف اور توازن کے ساتھ حل کرنا ہے، شوہر نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ معاہدہ جعلی اور بعد میں تیار کیا گیا، رکارڈ کے مطابق معاہدے کے دونوں گواہوں نے عدالت میں بیان دے کر دستاویز ثابت کردی۔

تحریری فیصلہ میں مزید بتایا گیا کہ جعلی دستاویز کا الزام لگانے والے شخص پر ثبوت دینا لازم ہوتا ہے، شوہر نے دستخط اور انگوٹھوں کے نشانات کی فرانزک جانچ کی مخالفت کی، فرانزک جانچ سے انکار شوہر کے مؤقف کو کمزور کرتا ہے، سچ بولنے والا شخص سائنسی جانچ سے نہیں گھبراتا، نکاح نامہ میں صرف 5 ہزار مہر درج ہونا،علیحدہ معاہدے کو غیر مؤثر نہیں بناتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں