سپریم کورٹ آف پاکستان 25

سپریم کورٹ ، 2پولیس افسران اور 1کانسٹیبل کے قتل میں ملوث مجرم کی نظر ثانی درخواست خارج

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے 2پولیس افسران اور 1کانسٹیبل کے قتل میں ملوث مجرم کی نظر ثانی درخواست خارج کر دی۔عدالت عظمیٰ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔عدالت کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانا ریاست کی رٹ اور نظامِ انصاف پر حملہ ہے، اسے نجی دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم کی جانب سے نظر ثانی کی درخواست 1598دن کی غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی جبکہ درخواست گزار تاخیر کے ہر دن کا معقول جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ مجرم پر 2پولیس افسران اور 1کانسٹیبل کے قتل کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 3بار سزائے موت سنائی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اپنے پہلے فیصلے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں