سلیم حیدر خان 13

سولر سسٹمز کی مقامی تیاری کے فروغ کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے ‘ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سولر سسٹمز کی مقامی تیاری کے فروغ کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے تو ملک میں روزگار کے وسیع مواقع ،سستی اور ماحول دوست توانائی کے حصول کے ساتھ قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے جبکہ صوبائی وزیر توانائی فیصل ایوب نے سولر توانائی کے شعبے کی توسیع کے لیے پنجاب حکومت کی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

گورنر پنجاب نے ان خیالات کا اظہار لاہور کے مقامی ہوٹل میں انرجی اپ ڈیٹ کے زیر اہتمام پاکستان سولر ایسوسی ایشن، رینیوایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان اور پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن کے تعاون سے منعقدہ تیسری بین الاقوامی سولر پاور کانکلیو و سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ حکومتی پالیسی کے فقدان کے باعث پاکستان میں سولر سسٹمز کی بڑے پیمانے پر مقامی مینوفیکچرنگ شروع نہیں ہو سکی۔ اگر ملک میں سولر مینوفیکچرنگ کی صنعت قائم کی جائے تو اس سے لاکھوں ملازمتیں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ صاف، سبز اور نسبتاًکم لاگت توانائی بھی دستیاب ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام پاکستانی کے لیے شمسی توانائی کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس موقع پر پنجاب کے وزیر توانائی فیصل ایوب نے کہا کہ اگرچہ بجلی کا شعبہ وفاقی دائرہ اختیار میں آتا ہے، تاہم پنجاب حکومت مہنگی بجلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سولر توانائی کے شعبے کی معاونت کرے گی۔حکومت سولر توانائی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے وفاقی وزیر توانائی سے رابطہ کرے گی اور پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے گا تاکہ ایسی پالیسی تشکیل دی جا سکے جو پاکستان میں شمسی توانائی کے پھیلا ئومیں معاون ثابت ہو۔انہوں نے توانائی کے ماہرین سے تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سولر شعبے کے فروغ کے لیے تجاویز کا خیرمقدم کرے گی۔

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے صدر عادل محمود نے کہا کہ شمسی توانائی اس وقت پاکستان کی توانائی ضروریات میں تقریباً 40ہزار میگاواٹ تک حصہ ڈال رہی ہے۔ اگر سولر توانائی کا یہ حصہ موجود نہ ہوتا تو ملک کو روزانہ پانچ سے سات گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔انہوں نے سولر پینلز پر ٹیکس اور دیگر اقدامات کے باعث صنعت کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے بیٹریوں پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ملک میں لیتھیم بیٹریوں کی مقامی مینوفیکچرنگ کے پلانٹس قائم کرنے کی تجویز بھی دی، تاکہ مستقبل میں پاکستان بیٹریاں برآمد کرنے کے قابل ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں