سندھ ہائی کورٹ 33

سندھ ہائی کورٹ کا85 سے زائد کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے 85 سے زائد کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے اہلیت جانچنے کے لیئے سندھ پبلک سروس کمیشن کو معاملہ ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو مختلف سرکاری منصوبوں میں کانٹریکٹ اور ایڈہاک بنیادوں پر تعینات ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزاروں کو سندھ حکومت کے مختلف منصوبوں میں مسابقتی عمل کے ذریعے تعینات کیا گیا۔ درخواستگزاروں کی ملازمتوں میں برسوں تک توسیع ہوتی رہی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ریگولیرائزیشن قوانین کے تحت درخواست گزاروں کو مستقل کیا جانا چاہیئے۔ اگرچہ کانٹریکٹ ملازمین کو مستقلی کا حق بطور بنیادی حق حاصل نہیں ہوتا۔ سندھ اسمبلی نے کانٹریکٹ اور ایڈ ہاک ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے خصوصی قانون سازی کی۔ یہ قوانین برسوں تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کو تحفظ دیتا ہے۔

حکومت بغیر کسی امتیازی رویے کے تمام اہل ملازمین کو قانون کا فائدہ دینے کی پابند ہے۔ سندھ ریگولیرائزیشن ایکٹ کے تحت قانون کے نفاذ سے قبل اہل کانٹریکٹ ملازمین کو ریگولر تصور کیا جائے گا۔ حکومت کانٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے قانون پر امتیازی انداز میں عمل نہیں کرسکتی۔ اہل ملازمین کو قانون کے تحت ریگولیرائزیشن کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے 85 سے زائد کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے اہلیت جانچنے کے لیئے سندھ پبلک سروس کمیشن کو معاملہ ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں