مراد علی شاہ 14

سندھ کی تقسیم کا فیصلہ صرف سندھ اسمبلی کرے گی، صوبہ ہمیشہ ایک رہے گا، مراد علی شاہ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کا فیصلہ لاہور کے کاروباری افراد، کسی عدالت، جلسے یا ٹی وی کے سیمینار میں نہیں بلکہ صرف سندھ اسمبلی میں ہوگا، سندھ کے منتخب نمائندے ہی صوبے کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

سندھ صدیوں سے قائم ہے اور آئندہ بھی ایک رہے گا۔سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے اور اس حوالے سے 1948، 2000، 2014، 2019 اور 2026 میں قراردادیں منظور کی گئیں، جبکہ فروری میں بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر اس بار مزید تفصیلی بحث کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تمام ارکان کے مؤقف سننے کے لیے التوا کی تحریک لائی گئی، کیونکہ التوا کی تحریک کو قرارداد پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اس تحریک کے ذریعے اہم معاملے پر اسمبلی کا معمول کا کاروبار معطل کرکے تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر 1948، 2014، 2019 اور 2026 میں اسمبلی میں بحث ہوچکی ہے، تاہم اس بار بھی دونوں جانب کے مؤقف اسمبلی میں سنے جانے چاہئیں۔ اس معاملے پر آج، کل یا پرسوں تک بحث جاری رکھی جاسکتی ہے اور بحث کو درست نتیجے تک پہنچایا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ التوا کی تحریک کا نتیجہ پہلے ہی واضح ہے، سندھ کبھی تقسیم نہیں ہوگا۔ سندھ کی تقسیم کا فیصلہ صرف سندھ اسمبلی کرے گی اور سندھ اسمبلی ہی اس معاملے پر بحث اور حتمی فیصلہ دے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں التوا کی تحریک پیش کرنے کے لیے 34 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، اپوزیشن چاہے تو التوا کی تحریک لاسکتی ہے، تاہم اپوزیشن میں سندھ کی تقسیم سے متعلق قرارداد لانے کی ہمت نہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ عدالت کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں، لیکن صوبے کی تقسیم کا فیصلہ سندھ اسمبلی کرے گی۔

عدالت، جلسے یا ٹی وی پر سیمینار کے ذریعے سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ بحث کی اصل جگہ سندھ اسمبلی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین کے مطابق ریاست کے اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے سندھ کے منتخب نمائندے ہی سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ سندھ اسمبلی ہی اس معاملے پر بحث اور فیصلے کا اصل فورم ہے، جبکہ ٹی وی یا دیگر فورمز پر ہونے والی بحث کا سندھ کی تقسیم کے معاملے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ صدیوں سے قائم ہے اور سندھ کے عوام نے اسے دوبارہ متحد کیا۔ سندھ کے عوام نے پاکستان بنایا اور پاکستان کی قرارداد بھی اسی ایوان نے منظور کی تھی۔مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان جب تک موجود ہیں سندھ صوبہ قائم رہے گا۔

سندھ کی تقسیم کے حوالے سے اٹھنے والی تمام آوازوں کا جواب سندھ اسمبلی دے گی۔انہوں نے کہا کہ فروری میں سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کی گئی تھی اور قرارداد کی مخالفت کرنے والے ارکان نے اسمبلی میں اپنا مؤقف بھی پیش کیا تھا۔ اگر ضرورت پڑی تو سندھ کی تقسیم کے خلاف دوبارہ قرارداد منظور کی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر فیصلہ سندھ اسمبلی کے ارکان کریں گے، لاہور کے کاروباری افراد یا کسی دوسرے فورم کو یہ اختیار حاصل نہیں۔ سندھ اسمبلی کا فیصلہ پہلے بھی واضح تھا اور آئندہ بھی واضح رہے گا کہ سندھ ایک تھا، ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں