شرجیل انعام میمن 11

سندھ میں ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کیلئے اہم اقدامات کیے، شرجیل میمن

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گزشتہ دو تین برس کے دوران صوبے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری اور شہریوں کو محفوظ، جدید اور بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چھوٹی ویگنز اور وینز کے حوالے سے حکومت سندھ نے اہم فیصلے کیے ہیں، جن میں ان گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی کٹس کے استعمال پر پابندی بھی شامل ہے تاکہ ممکنہ حادثات سے شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ گاڑیاں بین الاضلاعی اور اندرون شہر سفر کے ساتھ اسکول جانے والے بچوں کی آمدورفت کیلئے بھی استعمال ہوتی ہیں، اس لیے ان کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ تمام متعلقہ گاڑیوں کیلئے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹل فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں گاڑیوں کا ریکارڈ دستی طور پر رکھا جاتا تھا اور روٹ پرمٹ سمیت دیگر دستاویزات کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں ہوتا تھا، تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران پورے نظام کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے۔

شرجیل میمن نے دعویٰ کیا کہ سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں ٹرانسپورٹ فٹنس اور روٹ پرمٹ کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کا عمل شروع کیا گیا، جو ایک بڑا اور انقلابی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ قوانین پر عملدرآمد کیلئے بھی سخت اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جن کے کاغذات مکمل نہ ہوں یا ڈرائیور کے پاس لائسنس موجود نہ ہو، جبکہ فٹنس کے مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں کو تحویل میں لیا جاتا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت سندھ نے تھرڈ پارٹی لائیبلٹی انشورنس کا نظام بھی شروع کیا ہے تاکہ خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں متاثرین کو بروقت معاوضہ فراہم کیا جاسکے۔ سڑکوں پر ٹریفک سیفٹی اور گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل بھی مسلسل جاری ہے، جبکہ عید اور دیگر تہواروں کے موقع پر خصوصی اور اچانک چیکنگ کی جاتی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور جرمانے بھی کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں اور متعلقہ گاڑیوں میں حفاظتی انتظامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔کراچی میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کا بوجھ کم کرنے کیلئے ان بسوں کے روٹس میں تبدیلی کی گئی ہے جو اندرون شہر سے آکر تاج کمپلیکس، صدر اور کینٹ کے علاقوں تک جاتی تھیں۔ مسافروں کی سہولت کیلئے مفت شٹل سروس شروع کی گئی جو اب بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ شہری تاج کمپلیکس، کینٹ اور دیگر مقامات سے مفت شٹل سروس کے ذریعے سفر کرسکتے ہیں، جبکہ کراچی سے دیگر شہروں کا سفر کرنے والے مسافر بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ مفت شٹل سروس حکومت کیلئے ایک مہنگا انتظام ہے، تاہم اس کا مقصد کراچی کے شہریوں اور ملک بھر سے آنے والے مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنا ہے، اس لیے عوام کو حکومت سندھ کے ان اقدامات کو سراہنا چاہیے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ ٹریفک نظام کو مزید بہتر بنانے کیلئے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مسافر نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، ذمہ داری سے سفر کریں اور ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تاکہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال مزید بہتر بنائی جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں