ضیا الحسن لنجار 18

سرکاری زمینیں ملک اور صوبہ سندھ کا اثاثہ ہیں،ضیاء الحسن لنجار

کراچی (رپورٹنگ آن لائن )سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ 2026 کے مختلف قانونی، انتظامی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس صوبائی وزیرِ داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار کی زیرِ صدارت سندھ اسمبلی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ نے سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ 2026 کے مختلف پہلوؤں، قانونی شقوں اور اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں ایکٹ کی مختلف شقوں، قانونی تقاضوں، سرکاری اراضی کے مؤثر انتظام، تحفظ، شفاف استعمال اور نئے قانونی فریم ورک کے تحت اراضی سے متعلق معاملات کو مزید منظم بنانے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں قانون، بلدیات، صنعت و تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق امور سمیت مختلف محکموں کے درمیان باہمی رابطہ کاری اور انتظامی معاملات پر بھی غور کیا گیا۔صوبائی وزیرِ داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اراضی کے تحفظ، بہتر مینجمنٹ اور شفاف طریقہ کار کے لیے مؤثر قانونی نظام ناگزیر ہے۔ سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ 2026 کے تحت سرکاری زمینوں کے انتظام و انصرام کو مزید مؤثر، منظم اور شفاف بنایا جائے گا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری اراضی کے استعمال، الاٹمنٹ اور مینجمنٹ سے متعلق تمام امور میں قانون کی مکمل پاسداری اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے، جبکہ نئے قانون کا بنیادی مقصد سرکاری اراضی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کے مؤثر اور عوامی مفاد میں استعمال کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ لینڈ الاٹمنٹ کے حوالے سے عالمی سطح پر رائج قوانین اور طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ بین الاقوامی اصولوں اور بہترین طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر ایس او پیز تیار کیے جاسکیں۔انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ 2026 کے مؤثر نفاذ کے لیے باہمی رابطہ کاری اور مربوط حکمتِ عملی یقینی بنائی جائے۔ قانون کے نفاذ میں کسی بھی قسم کے ابہام یا قانونی پیچیدگی کو دور کرنے کے لیے تمام متعلقہ امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ضیائ الحسن لنجار نے کہا کہ سرکاری اراضی سے متعلق معاملات میں ادارہ جاتی ذمہ داری، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے گا، جبکہ متعلقہ محکمے ایکٹ کے عملی نفاذ کے لیے اپنی سفارشات اور تجاویز کو مزید مؤثر انداز میں مرتب کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری زمین قومی و صوبائی اثاثہ ہے، اس کے تحفظ اور درست استعمال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ 2026 کے تحت سرکاری اراضی کے مؤثر، شفاف اور منظم انتظام کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور سرکاری زمینوں کے ریکارڈ، استعمال اور مینجمنٹ کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔وزیرِ بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سرکاری اراضی کے مؤثر، شفاف اور منظم انتظام کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ سرکاری زمینوں کے ریکارڈ، استعمال اور مینجمنٹ کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیرِ صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ 2026 صوبے میں سرکاری اراضی کے بہتر انتظام اور مؤثر استعمال کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

سرکاری اراضی سے متعلق امور میں ادارہ جاتی رابطہ کاری اور واضح پالیسی پر مؤثر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری نے کہا کہ سرکاری اراضی کے شفاف اور مؤثر انتظام سے سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ 2026 کے قانونی پہلوؤں اور اس کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام ضروری قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔اجلاس میں ایکٹ 2026 کے تحت آئندہ کے لائحہ عمل، مختلف محکموں کی ذمہ داریوں اور قانون کے عملی نفاذ سے متعلق اہم امور پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پانچ رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کمیٹی میں معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور سیکرٹری قانون شامل ہوں گے۔کمیٹی ایکٹ کی مختلف شقوں، قانونی و انتظامی امور اور ترامیم سے متعلق سفارشات کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرے گی، تاکہ سندھ میں سرکاری اراضی کے انتظام، تحفظ، شفاف استعمال اور مؤثر مینجمنٹ کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل نظام یقینی بنایا جاسکے۔اجلاس میں وزیرِ بلدیات، وزیرِ صنعت و تجارت، معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری لینڈ یوٹلائزیشن اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں