اویس احمد خان لغاری 12

حکومت بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے، اویس لغاری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے،کسی کو حق نہیں ہوگا کہ حکومت کو بجلی بیچ سکے اور نہ حکومت خرید سکے گی،ملک میں بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے آپس میں خود خرید و فروخت کریں گے، اس نظام کا اطلاق سب سے پہلے صنعتی یا بڑے صارفین پر ہوگا، نظام کو مزید شفاف بنانے سے صارفین کو کم قیمت بجلی میسر آسکے گی،عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ترجیح ہے، آئندہ 5 سال میں 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی ۔

اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں بجلی حکومت خریدتی ہے اور اپنے ترسیلی نظام کے ذریعے صارفین تک پہنچاتی ہے، تاہم بجلی کی قیمت، آئی پی پیز اور واپڈا سمیت مختلف معاملات پر گزشتہ 25، 30 سال سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت نے گزشتہ 25، 30 سال سے زیرغور اس ارادے کو عملی شکل دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت حکومت کے لیے بجلی کی خریداری لازم نہیں ہوگی اور بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے آپس میں براہ راست خرید و فروخت کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کا پہلا مرحلہ صنعتی اور بڑے بجلی صارفین کے لیے شروع کیا جا رہا ہے، جس میں ایک میگاواٹ یا اس سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین مستفید ہوں گے۔ شفاف میکنزم کے تحت صارفین اپنی ضرورت کے مطابق سستی بجلی خرید سکیں گے۔ اویس لغاری نے کہا کہ یہ نظام بتدریج وسعت اختیار کرے گا اور آئندہ چند سالوں میں عام صارفین، جن میں 200 اور 400 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی شامل ہیں، تک اس کے فوائد پہنچیں گے۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی ایک منڈی وجود میں آئے گی جہاں صارفین اپنی مرضی سے سستی ترین بجلی خرید سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سستی بجلی سے صنعت کو بھی فائدہ ہوگا اور صنعتی شعبہ عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کو زیادہ مسابقتی نرخوں پر پیش کر سکے گا۔ بجلی کے اخراجات میں کمی سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں بھی مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران حکومت نے اس مقصد کے لیے جو کوششیں کیں، آج انہیں عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے قوم سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں