مفتاح اسماعیل 20

حالیہ جنگ میں سراسر نقصان امریکا و اسرائیل کا ہوا، مفتاح اسماعیل

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سابق وفاقی وزیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں سب سے زیادہ نقصان امریکا و اسرائیل کا ہوا، انقلاب اسلامی ایران کے بعد سے پابندیوں کا سلسلہ ہے، اگر معاہدہ ہوا تو ایرانی معیشت تیزی سے ترقی کرے گی، اگلے چھ ماہ پاکستان کے لیے مشکل ہیں، لیکن ایران سے پابندی ہٹنے سے پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا۔

این ای ڈی یونی ورسٹی میں ایران امریکہ جنگ۔اکیڈمیا کی نظر میں کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کی کوشش کریں تو سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہوا ہے، جو کہ روزانہ فی کس 32 ڈالرز ہے، قطر 11 ڈالرز، یواے ای 9 ڈالرز، کویت ساڑھے 7 ڈالرز، ایران ساڑھے 5 ڈالرز، امریکہ سوا دو ڈالرز، سعودیہ کا قریبا 2 ڈالرز اور پاکستان فی کس 10 سینٹ کے نقصان کا سامنا ہے۔سابق وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ انقلابِ اسلامی ایران کے بعد سے ایران کو مسلسل پابندیوں کا سامنا ہے، اگر اب معاہدہ ہوتا ہے تو ایران پرشین گلف کی بڑی طاقت بن کر ابھرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی 20 ہزار کے ڈرون کو گرانے کے لیے بھی 200 ملین ڈالرز استعمال ہوئے، امریکا کی 60 ٹریلین ڈالرز کی مارکیٹ کریش ہوئی، اب عوام الناس کی رائے کے مطابق نظر آرہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے الیکشن میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی ہار جائے گی۔ ایران کا جانی نقصان ناقابلِ تلافی نہیں لیکن اس جنگ کے نتائج ایران کے حق میں آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ ایران سے پابندیاں ہٹیں تو پاکستان ایران گیس پائپ لائن سے بڑا فائدہ ہوگا جب کہ پاکستان کو ایران کی صورت میں بڑی تجارتی منڈی بھی میسر آئے گی۔

جامعہ کی ترجمان فرواحسن کے مطابق سیمینار کی صدارت رجسٹرار این ای ڈی یونیورسٹی سید غضنفر حسین نے کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران ڈاکٹر سعید طالبی نیا مہمانِ خصوصی تھے۔سیمینار کے دیگر مقررین میں سابق چیئرمین شعبہ ابلاغیات/ معروف کالم نگار ڈاکٹر توصیف احمد، ایس آئی یو ٹی کے ڈاکٹر فاخر رضا، جامعہ اردو سے ڈاکٹر اصغر دشتی، نیٹا سے ڈاکٹر کامران زکریا اور سپلا کے صدر منور عباس نے بھی خطاب کیے۔

سندھ پروفیسرز لیکچرر ایسوسی ایشن(سپلا)، این ای ڈی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن، انجمن اساتذہ فیڈرل اردو یونی ورسٹی اور انجمنِ اساتذہ کراچی یونی ورسٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیمینار میں نظامت کے فرائض شفق زہرا اور سید محمد حیدر نے انجام دیئے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر توصیف نے کہاکہ میں اسے مذہبی جنگ نہیں سمجھتا، ایران کے ساتھ کیوبا، چین، روس، لاطینی امریکی کھڑے ہیں جب کہ امریکا کے ساتھ خلیجی اسلامی ممالک کی بادشاہتیں کھڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی شریف یونی ورسٹی کا معیار دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی یونی ورسٹی ایم آئی ٹی کے برابر ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو بتایا کہ ایران کی امریکی سامراجیت کے خلاف کامیابی سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر فاخر رضا نے کہاکہ امریکا کو ایران کا میڈیکل اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھنا پسند نہیں، ایران کا جرم کیوبا کے ساتھ مل کر ویکسین بنانا بھی ہے جو نہایت کم قیمت پر دنیا بھر کو فراہم کی جاتی۔ یہی وجہ امریکا نے ایران کی لیبارٹریز، فارما سوٹیکلز، تحقیق کاروں اور سائنسدانوں کو نشانہ بنایا، یہ سب جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ڈاکٹر اصغر دشتی نے کہا کہ اس جنگ میں امریکا نے ایران کا تعلیمی قتل عام کیا ہے۔

دنیا بھر میں امریکا سامراج کی 800 سو جنگی بیسز ہیں لیکن امریکا کا اصل ہدف ایران نہیں چین ہے کیوں کہ ایران، پابندیوں کی وجہ سے 90فی صد تیل چین کو درآمد کرتا ہے لہذا چین پر قابو پانے کے لیے ایران کو تباہ کرنا امریکا ضروری سمجھتا ہے۔اس موقع پر ایران مشہد سے آئے ایرانی وفد نے بھی این ای ڈی کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر صدارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے رجسٹرار این ڈی نے حکومت و سپہ سالار حافظ عاصم منیر کی بہترین سفارت کاری کو سراہا جب کہ ڈائریکٹر جزل خانہ فرہنگ ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے کہا کہ ہم بھرپور حمایت پر پاکستانی عوام کے دل سے شکر گزار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں