بیرسٹر گوہر 17

بیک ڈور رابطوں کا ماحول اس مرتبہ کچھ ٹھنڈا ہے، بیرسٹر گوہر علی خان

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بیک ڈور رابطوں کا ماحول اس مرتبہ کچھ ٹھنڈا ہے،سہیل آفریدی کو لاہور دورے کے دوران عوام کی کافی پذیرائی ملی، لاہور میں سکیورٹی نہ دینا افسوسناک بات ہے۔اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے اس مرتبہ ماحول کچھ ٹھنڈا ہے، بات چیت ہونی چاہیے اور چیزیں اچھی سمت میں آگے بڑھنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لاہور دورے کے دوران عوام کی کافی پذیرائی ملی، تاہم انہیں لاہور میں سکیورٹی نہ دینا افسوسناک بات ہے۔ وزیراعلیٰ کے پی کو گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا اور ایک چوک پر چھوڑ دیا گیا، سہیل آفریدی ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، پولیس کو ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھنا چاہیے تھا۔ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو ایسے ٹریٹ کرنے سے نفرتیں بڑھیں گی، وزیراعلیٰ پنجاب اور پنجاب پولیس کو ایسے رویے پر معذرت کرنی چاہیے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو دوسرے صوبے میں سکیورٹی دینا صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ کو پولیس کی گاڑی میں ایک قدم بھی لے کر جانا تضحیک ہے، گزشتہ رات لاہور میں جو کچھ ہوا غلط ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم پرامن ہیں اور ہمیشہ پرامن رہیں گے، ہم اپنے حقوق اور انصاف کی بات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ایک حکم آیا تھا جس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنا تھا، عدالتی احکامات پر میڈیکل بورڈ بننا تھا لیکن عملدرآمد نہیں ہوا،ہم نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواستیں دائر کی ہیں، کریمنل کیسز ہمیشہ سپریم کورٹ سنتی ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے مسئلے کو آئینی بحران کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے کو فٹ بال کی طرح ایک عدالت سے دوسری عدالت میں نہ پھینکیں، آئینی عدالت نے اگر کیس اپنے پاس منگوانا تھا تو کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا،آئینی عدالت سے ہمارا اختلاف ہے، اسے کیس نہیں لینا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے ڈھونڈا جائے، تنائو کم کرنے کے لیے اچھے اقدامات ہونے چاہئیں،اس وقت حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، ماحول ٹھنڈا ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بہت پاپولیریٹی ہے، 27ستمبر کو بڑی دنیا آئے گی، شیر افضل اپنی پارٹی کی لائن پر چل رہا ہوگا، ان کی پٹیشن پر نوٹس نہیں ہونا چاہیے تھا،کے پی میں کون وزیراعلیٰ ہوگا اور کون نہیں ہوگا، یہ ایک سیاسی معاملہ ہے،عدالتیں اکیڈمک سوالات پر کبھی فیصلے نہیں کرتیں، یہ ایک مسلمہ اصول ہے، سیاسی سوالات پر بھی عدالتیں سماعت نہیں کرتیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے سربراہ بانی ہیں،بانی نے ہی علی امین اور سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنایا تھا،مئی 2025 کے بعد ملک و قوم کی سوچ بدلنی چاہیے تھی۔

انہوںنے کہاکہ مئی 2025 میں پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوگیا، دنیا نے دیکھا پاکستان ایک مضبوط دفاعی قوت ہے،ملک میں اب سیاسی اور معاشی استحکام بھی آنا چاہیے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں، پنجاب میں لیڈرشپ کے گھروں پر پولیس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں،پنجاب میں پی ٹی آئی رہنماں کے گھروں کو سیل کیا گیا، بجلی بھی کاٹ دی گئی، اس سے سیاسی ماحول مزید خراب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج اور مارچ کی سپورٹ کرتے ہیں، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا مارچ اپنا اپنا ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے پی ٹی آئی مارچ میں شریک نہیں ہوں گے، اے پی سی میں شرکت کریں گے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی سے جیل میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی، کسی بھی ہائی لیول کی شخصیت یا کسی کی ملاقات نہیں ہوئی،نہ ہم اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے، نہ ہم راستے بند کریں گے،ہم آئیں گے، ایک طرف سے آئیں گے، لوگوں کا راستہ بھی کھلا ہوگا۔ ہم نہتے آئیں گے، ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے، ہم محب وطن شہری ہیں۔انہوں نے حکومت سے کہا کہ عدالتوں کے سہارے معاملات کو نہ الجھائیں۔ آئی جی اور چیف سیکرٹری کا بیان حلفی لے کر کیا آپ چاہتے ہیں دو صوبوں کی پولیس لڑ پڑے؟

ہم یقین دلاتے ہیں کہ نہ صوبائی مشینری استعمال کریں گے اور نہ امن میں کوئی خلل ڈالیں گے۔ ہم اس مرتبہ بھی سرکاری مشینری کے بغیر آئیں گے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ دہشت گردی کے اوپر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ کرے پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو،اگر کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں تو سب کو اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اگر لاہور محفوظ ہے تو اللہ کرے محفوظ رہے، باقی بھی صوبے محفوظ ہوجائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں