سید یوسف رضا گیلانی 6

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر قومی معیشت کیلئے انتہائی اہم ہیں، یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تقریبا 70 لاکھ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر قومی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے بیرون ملک پاکستانیوں کے حقوق، عزت اور فلاح و بہبود کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے۔

پاکستان میں مائیگریشن گورننس کے حوالے سے پہلے پارلیمانی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ، قانونی ذرائع سے نقل مکانی کا فروغ اور محفوظ، منظم و باقاعدہ نقل مکانی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور دیگر تعصبات سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مشکل اور ضرورت کے وقت اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہو جبکہ تارکین وطن کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے پارلیمانی رابطہ کاری کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مائیگریشن گورننس سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ایک اہم قومی مسئلہ ہے جو ملک بھر کے لاکھوں خاندانوں کو متاثر کرتا ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر پارلیمانی اتفاق رائے ضروری ہے۔

شواہد پر مبنی قانون سازی، ادارہ جاتی مکالمے اور پارلیمانی کمیٹیوں و متعلقہ ریاستی اداروں کے درمیان مضبوط روابط اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے موسمیاتی تبدیلی اور نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے تعلق پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی اثرات سے نمٹنے اور جبری نقل مکانی میں کمی کے لیے موثر حکمت عملی ضروری ہے جبکہ بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت بالخصوص گرانٹس کی صورت میں فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قابل اعتماد اعداد و شمار، تحقیق اور مسلسل مکالمے سے مائیگریشن گورننس کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

پارلیمانی ڈائیلاگ کو مستقل پارلیمانی اقدام کے طور پر جاری رکھنے اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات کو موثر قانون سازی اور پالیسی اقدامات میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایوان بالا بیرون ملک پاکستانیوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کے تحفظ، عزت، حقوق اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور مائیگریشن گورننس کے حوالے سے پارلیمانی مکالمے کو پائیدار اور موثر عمل میں تبدیل کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں