بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) انگولا کی نیشنل اسمبلی کے اسپیکر ڈی المیڈا نے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے چین کا دورہ کیا۔ انہوں نے چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انگولا چین تعلقات، چین کے ترقیاتی ثمرات اور چارگلوبل انیشی ایٹوز کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ 1983 میں انگولا اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ 2002 سے 2003 کے درمیان، انگولا میں طویل عرصے سے جاری مسلح تصادم کے خاتمے اور امن کی بحالی کے بعد، دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی۔ انہوں نے کہا کہ انگولا میں تصادم کے خاتمے کے بعد چین تعمیر نو کا ایک اہم شراکت دار ہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات کو اب جامع اسٹریٹجک تعاون کی شراکت دار ی میں اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ اس دورے کی انتہائی اہمیت ہے ،جس نے نہ صرف قانون ساز اداروں کے تعاون کی سطح پر دوطرفہ تعلقات کے مفہوم کو وسعت دی ہے، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستی اور تعاون کو مزید گہرا بھی کیا ہے۔
چین کی ترقی اور حکمرانی کے تجربات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چین نے خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں بہت ترقی کی ہے۔حالیہ برسوں میں ہم نے چین میں مسلسل ترقی، نمو اور جدت کے طاقتور رجحان کو دیکھا ہے۔ اس پر چینی عوام کو فخر ہونا چاہیے اور چین کے تمام دوستوں کو بھی اس پر دلی خوشی ہے۔
انہوں نے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کیے گئے چار عالمی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات نہایت اہم اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ ان اقدامات میں آج دنیا کو درپیش چیلنجز کی درست تفہیم نظر آتی ہے، جو زیادہ مؤثر کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے تمام فریقوں کو ایک میز پر بیٹھ کر مشترکہ طور پر معاملات پر غور و خوض کرنے اور ایسے مشترکہ اصول وضع کرنے کی ترغیب ملتی ہے جو سب کے لیے قابلِ عمل ہوں، اور انسانیت کو ایک دوسرے سے منقطع اور لاتعلق ممالک کے مجموعے کے طور پر نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک متحد معاشرے کے طور پر دیکھنے میں مدد ملتی ہے۔









