اقوام متحدہ (نمائندہ خصوصی) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 63واں اجلاس حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ترقی اور عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے متعدد سائیڈ ایونٹس کا انعقاد کیا گیا۔
اجلاس کے دوران جنیوا میں چین کے مستقل مشن اور چائنا انٹرنیشنل کونسل آف سول ایسوسی ایشنز نے مشترکہ طور پر “مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی حقوق کی ترقی کو با اختیار بنانے” کے موضوع پر ایک سائیڈ ایونٹ منعقد کیا، جس میں عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی نمائندے نے کہا کہ چین گلوبل ساؤتھ کی آوازوں کو اہمیت دینے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کے سلسلے میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سول سوسائٹی کی تنظیموں کے پل اور رابطہ کار کے کردار کو مزید اجاگر کیا جائے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کی جائیں کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید سائنسی و تکنیکی ترقی کے ثمرات تمام ممالک میں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے منصفانہ اور فائدہ مند انداز میں استعمال ہوں۔
اس کے علاوہ، چائنا سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اسٹڈیز اور سینٹرل ساؤتھ یونیورسٹی کے ہیومن رائٹس ریسرچ سینٹر نے “کثیرالجہتی کے تناظر میں قومی انسانی حقوق کے عملی منصوبے” کے موضوع پر ایک نشست کا انعقاد کیا۔ چینی نمائندوں نے کہا کہ قومی انسانی حقوق کے عملی منصوبوں کی مسلسل تشکیل اور ان پر عمل درآمد کے ذریعے چین نے انسانی حقوق کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی اور عملی اقدامات پر مبنی ایک راستہ اختیار کیا ہے۔









