قمر زمان کائرہ 9

18ویں ترمیم میں مقامی حکومتوں کو مالی ،انتظامی اختیارات کی منتقلی لازمی نہ بنانا غلطی تھی’قمر زمان کائرہ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی صوبے بنانے کا مطالبہ نہیں کرتی لیکن جہاں جہاں لوگ ایسا مطالبہ کرتے ہیں ہم ان کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں،اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات تو مل گئے لیکن صوبوں سے نیچے مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کرنے کے حوالے سے قانون سازی نہ کرنا ہماری غلطی تھی۔

ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ معلوم نہیں کچھ وزرا ء کو کس بات کا گھمنڈ ہے کہ ہم صوبے بنا لیں گے اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ ریفرنڈم کرا لیں گے، جو چیز آئین میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے اس پر ریفرنڈم نہیں ہو سکتا۔قمر زمان کائرہ نے کہاکہ سندھ کی گورننس اتنی خراب نہیں جتنی کہی جاتی ہے،صرف بعض میڈیا ہائوسز روز کراچی کے ابلتے ہوئے گٹر دکھاتے ہیں،سندھ میں اگر گورننس ٹھیک نہیں تو وہاں کے عوام انہیں مسترد کردیں گے۔انہوں نے کہاکہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی لندن میں مصروفیات معمول کے مطابق تھی ، اس میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔مریم نواز کے بیان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ کو اپنے بیان میں لفظوں کا چنائو مناسب رکھنا چاہیے۔

قمر زمان کائرہ نے کہاکہ آئین پاکستان کے مطابق نئے صوبوں کے مطالبے کی بات قومی اسمبلی یا سینیٹ نہیں صوبائی اسمبلی میں شروع ہو سکتی ہے۔ اگر کسی صوبے کے مقامی لوگ، وہاں کے قانون ساز، وہاں کی صوبائی اسمبلی اگر صوبے کا مطالبہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کا ساتھ دے گی۔انہوں نے کہاکہ 2012 میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی قراردادیں شاید غیر موثر ہو چکی ہیں۔2012 میں یہ قرارداد منظور ہوئی، اس پر 14 سال گزر چکے ہیں، کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا تو میری نظر میں ان قراردادوں کی افادیت نہیں رہی۔

قمر زمان کائرہ نے کہاکہ انہیں حیرانی ہے کہ محسن نقوی نے بیان کِس طرح سے دے دیا۔ اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ صوبے اگر نہیں بھی چاہیں گے تو نئے صوبے بن جائیں گے۔ سیاسی جماعتیں نہیں چاہیں گی تو صوبے کیسے بنیں گے، یہ باتیں ان کو سمجھنی چاہئیں لیکن معلوم نہیں وہ کس گھمنڈ میں یہ باتیں کررہے ہیں۔ہمارے ملک میں صوبے بنانے اور توڑنے کا عمل ملک توڑنے کا باعث بن چکا ہے۔ اس ملک میں چٹکی بجا کر ون یونٹ بنا دیا گیا اور جب توڑا گیا تو پھر توڑتے ہوئے دیر نہیں لگائی گئی، ان چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا جو ریاست کے اندر دراڑیں بڑھا دیتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں