سندھ ہائی کورٹ 21

15 ارب روپے سے زائد فراڈ کا معاملہ، نیب کو 2 ہفتوں میں پیشرفت رپورٹ دینے کا حکم

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سرمایہ کاری کے نام پر شہریوں سے بڑے پیمانے پر مبینہ فراڈ سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست پر نیب کو تحقیقات میں پیشرفت سے 2 ہفتوں میں آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران عدالتی احکامات پر ڈی جی نیب کراچی عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کی پراسیکیوٹر صدف راجپوت نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب قوانین کے تحت یہ معاملہ ادارے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اسی بنیاد پر کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو منتقل کردیا گیا ہے۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اگر درخواست گزار نیب سے تحقیقات کروانا چاہتے ہیں تو ادارہ عدالتی حکم پر تحقیقات کے لیے تیار ہے۔

عدالت نے ڈی جی نیب کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دے دیا، جبکہ درخواست گزاروں کو تمام شواہد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے نیب کو دو ہفتوں میں تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نیب کی جانب سے معاملہ ایف آئی اے کو منتقل کرنے پر انہیں اعتراض ہے۔ درخواست کے مطابق ایک ہزار سے زائد شہریوں سے سرمایہ کاری کے نام پر 15 ارب روپے سے زائد کا مبینہ فراڈ کیا گیا۔درخواست گزاروں کا مزید الزام ہے کہ نیب نے فراڈ کی رقم کا تخمینہ کم لگایا اور تحقیقات ایف آئی اے کو منتقل کردیں، جس پر انہوں نے ڈی جی نیب، چیئرمین نیب اور دیگر کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں