اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری نے کہاہے کہ ہمیں خواتین کو تعلیم اور ہنر فراہم کرنے اور ان کی مالی خودمختاری یقینی بنانے کی ضرورت ہے،مجھے خوشی ہے کہ ہم پاکستان میں خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمے کیلئے بامعنی کوششیں کر رہے ہیں، ہم نے خواتین کو جنسی تشدد اور کام کی جگہ پر ہراسیت سے بچانے کے لیے قوانین بنائے ہیں۔
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن 25 نومبر 2024ء پراپنے پیغام میں کہاکہ ہم خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر تشدد کی مختلف صورتوں کا سامنا کرنے والی دنیا بھر کی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں،یہ دن ہمیں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے اپنی کوششیں تیز کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے۔
انہوںنے کہاکہ خواتین کے خلاف تشدد انسانی حقوق کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک خاتون متاثر ہوتی ہے، اس مسئلے کے حل کیلئے فوری اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تشدد کی وجہ سے ہر سال ہزاروں خواتین اپنی جانیں کھو بیٹھتی ہیں، اس سال کے عالمی دن کا عنوان ہر 10 منٹ میں ایک عورت قتل کی جاتی ہے،خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے متحد ہے، یہ عنوان انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کی روک تھام کیلئے حکمت ِعملی وضع کرنے، زندہ بچ جانے والی خواتین کی مددکرنے اور نظام میں اصلاحات لانے کیلئے سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کرتا ہے،پاکستان اس مسئلے کے حل کیلئے پر عزم ہے اور عالمی تقاضوں کے ساتھ اپنی قومی کوششیں ہم آہنگ کررہا ہے۔انہوںنے کہاکہ سابق وزیرِاعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں،1995 میں بیجنگ میں ہونے والی خواتین سے متعلق چوتھی عالمی کانفرنس میں انہوں نے معاشی آزادی، سماجی مساوات اور تعلیم ِ نسواں پر زور دیا، وہ خواتین کے استحصال اور بدسلوکی سے پاک ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی خواہاں تھیں جہاں خواتین سیاست، کاروبار، سفارت کاری اور زندگی کے دیگر شعبوں میں اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ سکیں۔
انہوںنے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ ہم پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے بامعنی کوششیں کر رہے ہیں، ہم نے خواتین کو جنسی تشدد اور کام کی جگہ پر ہراسیت سے بچانے کے لیے قوانین بنائے ہیں،پاکستان میں فیملی پروٹیکشن سینٹرز اور ویمنز کرائسز شیلٹرز کا قیام عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ کونسلنگ، ہیلپ لائنز اور قانونی امداد تک رسائی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، ہمیں اس امر کا ادراک ہے کہ ہمیں ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے، ابھی بھی تشدد سے خواتین کی تعلیم، روزگاراور مساوی مواقع تک رسائی محدود کی جاتی ہے۔
انہوںنے کہاکہ آج کے دن ہم خواتین کے حقوق کے تحفظ، انہیں ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، ہمیں خواتین کو تعلیم اور ہنر فراہم کرنے اور ان کی مالی خودمختاری یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں، خواتین کے حقوق کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور تشدد کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔انہوںنے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ اپنی اجتماعی کوششوں سے ہم ایک ایسا محفوظ تر ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جہاں کسی بھی عورت کو تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔









