فیصل واوڈا 84

کون ٹیکس لگا رہا سب پتہ ہے، سینیٹ کمیٹی اجلاس میں فیصل واوڈا چیئرمین ایف بی آر سے الجھ پڑے

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ٹیکس کے معاملے پر سینیٹر فیصل واوڈا چیئرمین ایف بی آر زبیر امجد ٹوانہ سے الجھ پڑے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی نے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی مخالفت کر دی۔سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا پوری دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، چھ ماہ میں اگر کسی کی شپمنٹ پہنچتی ہے اس کو تو پتہ ہی نہیں تھا، پالیسی بناکر جب اس پر نظرثانی کی جاتی ہے تو مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا ڈیڑھ کروڑ روپے سے اوپر کی گاڑی پر 25 فیصد سیلز ٹیکس لگایا گیا ہے، جس پر فیصل واوڈا کا کہنا تھا ٹیکس اور پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سے کوئی اس ملک میں انڈسٹری نہیں لگاتا۔ایف بی آر حکام کا کہنا تھا درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس لگا ہے مقامی طور پر تیار گاڑیوں پر ٹیکس نہیں لگایا، جس پر سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا یہ میرا کاروبار ہے مجھے پتہ ہے گاڑیوں پر ٹیکس کون لگوا رہا ہے، مجھے مجبور نہ کیا جائے میں پبلک میں بتا دوں گا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے گاڑیوں پر ٹیکس کے معاملے کو موخر کر دیا۔

سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا بجٹ میں ٹیکس لگانے سے پورے پاکستان میں پراپرٹی مارکیٹ بیٹھ گئی ہے، اب عام آدمی گھر نہیں خرید سکے گا، آئی ایم یف کے کہنے پر ہر چیز کا بھٹہ بٹھا دیں گے۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا تنخواہ دار طبقے پر 35فیصد تک اور غیر تنخواہ دار طبقے پر45فیصدتک ٹیکس عائد ہے، پراپرٹی سیکٹر میں فائلر کیلئے ٹیکس 15فیصد اور نان فائلر کیلئے 45فیصد ہے، پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکسوں کی شرح فیئر ہے۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا پراپرٹی پر بڑھائے جانے والے ٹیکس سے عام آدمی گھر کیسے بنائے گا، جس پر چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا سیمنٹ پر فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی(ایف ای ڈی)میں ایک روپیہ بڑھانےکی تجویز ہے کیونکہ سیمنٹ کے ریٹ بڑھنے سے ایف بی آر کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 2روپے سے بڑھا کر3روپے کلو کر دی گئی ہے، ایک روپیہ اس لیے بڑھایا جا رہا ہے کہ ایف بی آر کو ریونیو آئے۔س

ینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کمیٹی اجلاس کے دوران استفسار کیا سگریٹ پر ایف ای ڈی بڑھانے سے کیا سگریٹ کی کھپت کم ہوئی ہے؟ جس پر چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا رسمی شعبے کی پیداوار میں 40فیصد کی کمی ہوئی ہے، ٹیکس بڑھانے کے باوجود عوام نے سگریٹ پینا نہیں چھوڑا۔چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں سال ایف بی آر نے نان ٹیکس پیڈ 40کروڑ سگریٹ اسٹک پکڑی ہیں، گزشتہ سال 14کروڑ سگریٹ پکڑے گئے تھے، کسی دکان پر اسمگل شدہ سگریٹ ملے تو ایسی دکان کو سیل کر دیا جائے گا۔سینٹر شیری رحمان کا کہنا تھا اگر آپ چھوٹی اور بڑی تمام دکانیں بند کر سکتے ہیں تو اجازت ہے جبکہ فاروق ایچ نائیک نے کہا کسی بھی دکان پر فروخت ہونے والی اشیا کی قیمت نہیں لکھی ہوتی، یہ قانون کی خلاف ورزی ہے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا، تمام اشیا کی قیمت نمایاں لکھی ہونا یقینی بنائیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فاروق ایچ نائیک کی تجویز کی منظوری دے دی۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ پلاٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے پوچھا پلاٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی کس طرح عائد کی گئی؟ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ہم سیلز ٹیکس عائد کرنا چاہتے تھے اس لیے ایکسائز ڈیوٹی عائد کی۔فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا پلاٹ تو اشیا میں نہیں آتے نہ ہی یہ خدمات میں آتے ہیں، آپ نے پلاٹ کی خریداری پر ٹیکس کس قانون کے تحت لگایا؟ آپ نے قانون کو کھینچ کر ان کو شامل کیا ہے، یہ قانون چیلنج ہو جائے گا میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں