سعد رفیق 40

کانسٹی ٹیوشن ون سے متعلق پراپیگنڈا کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر رہا ہوں’ سعد رفیق

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ایک بار پھر کانسٹی ٹیوشن ون پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کی سختی سے تردید کرتے ہوئے پراپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف پیکا اور ہتک عزت ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اپنے ویڈیو بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران بعض مخصوص حلقے اسلام آباد میں کنونشن سنٹر سے متصل عمارات کانسٹی ٹیوشن ون کے ساتھ میرا تعلق جوڑنے اور اس میں میری سرمایہ کاری ثابت کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کے ذریعے ایڑی چوٹی کے زور لگا رہے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ عمارت بنانے ،بنوانے والوں یا اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو چھوڑ کر سارا زور و میری کردار کشی کرنے اور مجھے اس عمارت سے منسوب کر کے جھوٹی کہانیاں گڑنے پر صرف کیا جارہاہے ۔مجھے اس پراجیکٹ کا شراکت دار یا بینی فشری ثابت کرنے کے لئے مسلسل جھوٹ بولا گیا اور بلوایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ گھٹیا پراپیگنڈا شروع کرنے والے سوشل میڈیا اکائونٹس وہ ہیں جو روایتی طور پر ریاستی بیانیہ پھیلانے اور مخالف بیانیہ تباہ کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ،ان اکائونٹس کو پراپیگنڈا کرتا دیکھ کر ایک اپوزیشن جماعت کے کٹر فالووز کا سوشل میڈیا بریگیڈبھی موقع غنیمت پا کر میر ی کردار کشی پر اتر آیا جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپنے ایکس اکائونٹ اور فیس بک اکائونٹ پربار بار بار کی تردید کے بعد اب میں مجبورا ً ویڈیو بیان جاری کرنے پر مجبور ہوا ہوں ۔

سعد رفیق نے کہاکہ میں ایک بار پھر واضح اور واشگاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میرا ، میرے خاندان یا میرے سٹاف ممبر کااس پراجیکٹ میں کوئی اثاثہ ہے اس میں نہ ہماری کوئی سرمایہ کاری کی تھی یا ہم نے کی ہے ، اسی طرح میرا کوئی سوشل میڈیا مینیجر موجود ہیں نہیں لیکن یہ کہانی گھڑی گئی کہ میں نے یہ بیان دیا ہے کہ میرے سوشل میڈیا مینیجر کے نام پر کئی اپارٹمنٹس نکل آئے ، یہ سراسر جھوٹ ہے ،اس کا مجھ سے یا میری کسی ٹیم یا خاندان سے کوئی تعلق نہیں ، یہ جھوٹی کہانیاں ایک مخصوص دفتر میں بیٹھ کر گڑھی گئی ہیںاور اس کے بعد سوشل میڈیا پر اپوزیشن جماعت کا سوشل میڈیا بریگیڈ جو گالیاں دینے کیلئے مشہور ہے وہ بھی اس کام پر مامور کر دیاگیا ہے ۔

سعد رفیق نے کہا کہ بعض لوگ وہ بھی ہیں جنہیں حقائق کا مطلق پتہ نہیں لیکن وہ خبط عظمت میںمبتلا ہیں اور ہر سیاستدان کو بلا تحقیق بغیر ثبوت گالی دینا ثواب کا کام سمجھتے ہیں،بیشک میرے بعض دوستوں نے اس میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ان کی سرمایہ کاری اور اثاثے ان کو مبارک ہوں میرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔سعد رفیق نے کہا کہ میری چند روزہ تحقیقات کے مطابق میرے سیاسی موقف سے ناراض حلقوں نے بلا تفتیش و تحقیق محض تُک بندی کی بنیاد پر پاکستان کے ایک سینئر صحافی کے وی لاگ سے ناراض ہو کر مجھے اس وی لاگ کے ساتھ جوڑا مجھے خود ہی ذمہ دار ٹھہرایا اور اپنے سو شل میڈیا اکائونٹس کے ذریعے مجھ پر حملہ شروع کر ادیا گیا ہے ،یہ ایک احمقانہ ، غیر دانشمندانہ اور ظالمانہ اقدام تھا جس کی شکایت متعلقہ فورم پر کی جا چکی ہے ۔سعد رفیق نے کہا کہ میری بار بار کی واضح تردید کے باوجود یہ سلسلہ تھما نہیں اور ایک اپو زیشن جماعت کا سوشل میڈیاپر موجود گالی بریگیڈ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ۔

انہوںنے کہا کہ کانسٹی ٹیوشن ون کا پراجیکٹ جنرل پرویز مشرف مرحوم کے دور میں شروع ہوا ،یہ وہ دور تھا جب میں فرنٹ لائن پر ان کی مخالفت کر رہا تھا اورمارشل لاء کی مزاحمت کر رہا تھا اور مسلسل آٹھ برس زیر عتاب رہا ۔ اسی طرح اس پراجیکٹ کو ریگولرائز کرنے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار میرے بد ترین مخالف رہے ، انہوںنے مجھے عمران خان سے 2018میں جیتا ہوا الیکشن ہرانے کے لئے میری ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کو ڈس مس کیا ۔ سعد رفیق نے کہا کہ میرے پاس اب قانونی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا چاہے اس کی زد میں کوئی بھی آئے مجھے اس معاملے کو قانونی پر آگے لے کر چلنا ہے ، میں نے اپنے احباب اور لیگل ایڈوائزرز سے مشورہ مکمل کر لیا ہے ، ہم پیکا ایکٹ2016اور ہتک عزت ایکٹ2024کے تحت قانونی کارروائی کوآگے بڑھاتے ہوئے دونوں فورمز استعمال کریں گے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو اور عوام کو پتہ چلے اورمعلوم ہو کہ کیسے اصولوں پر کھڑے رہنے والے اور مفادات نہ لینے والے سیاسی کارکنوں اور سیاستدانوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں