کراچی(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پیٹرول پر عائد لیوی ختم نہ کی گئی تو جماعت اسلامی اسلام آباد میں مارچ کرے گی، عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑے گا۔جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی کوششوں سے بحال کی گئی آٹھ پوائنٹس بسوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 135 سے 140 روپے تک ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی، پانچ روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 21 روپے کسٹمز ڈیوٹی سمیت مختلف ٹیکس عائد ہیں، جن میں کمی سے عوام کو نمایاں ریلیف دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر عائد 80 روپے فی لیٹر لیوی کا پیٹرول کی بنیادی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، اسے جگا ٹیکس اور بھتہ ٹیکس بھی کہا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم پیٹرول پر عائد لیوی ختم کریں تاکہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے میں مدد مل سکے۔ ان کے مطابق ٹیکسوں میں کمی اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں بہتری سے پیٹرول کی قیمت 200 روپے فی لیٹر تک آسکتی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات کو درپیش سفری مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولتیں نہ ہونے کے باعث طلبہ موٹر سائیکل استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ یونیورسٹی روڈ کھدائی کے باعث تباہ حال ہے اور منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلسل نئی تاریخیں دی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن اور لوٹ مار کے نظام نے کراچی کے شہریوں کے حقوق متاثر کیے ہیں۔
پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن انہیں آگے بڑھنے کے مناسب مواقع نہیں مل رہے، جس کے باعث نوجوان بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے طلبہ یونین کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو ہر سال اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ کلاس، شعبے اور فیکلٹی کی سطح پر انتخابات کے ذریعے طلبہ کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ ان کے مطابق طلبہ یونین کی بحالی سے تعلیمی اداروں میں مباحثے، مثبت سرگرمیوں اور طالبات کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے مواقع پیدا ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت جامعہ کراچی میں دو ہزار تعلیمی کارڈ جاری کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ بنو قابل پروگرام میں 18 لاکھ نوجوان رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور نوجوانوں کو تعلیم و ہنر کے بہتر مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ جامعہ کراچی کے طلبہ کے لیے آٹھ پوائنٹس بسوں کی بحالی خوش آئند اقدام ہے۔
جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنے اختیارات سے بڑھ کر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین پر 42 سال قبل عائد پابندی کے خاتمے اور طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے بتایا کہ جامعہ میں انکیوبیشن سینٹر قائم کرنے اور طلبہ کے لیے تعلیمی انتظام کا برقی نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ آئندہ تین سے چار ماہ میں کلاس رومز کا تعلیمی مواد طلبہ کو موبائل فون پر دستیاب ہو۔ انہوں نے تاریخی علمی نسخوں کے تحفظ کے لیے عجائب گھر قائم کرنے کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا۔









