محمد جاوید قصوری 32

پنجاب حکومت کی گندم خریداری کی پالیسی، چند افراد کو نوازنے کا ذریعہ ہے ‘ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے پنجاب حکومت کی گندم خریداری پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کسان دشمن اور مافیا نواز قرار دیا ہے، موجودہ پالیسی کے تحت 11 نجی کمپنیوں کو 6 ارب روپے کا مفت باردانہ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ انہی کمپنیوں کو سرکاری گوداموں اور عمارتوں کے استعمال کی بھی مفت سہولت دی جا رہی ہے جو کہ سراسر ناانصافی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ خوراک کے تقریباً 400 ملازمین کی خدمات بھی ان نجی کمپنیوں کے سپرد کر دی گئی ہیں، جہاں تنخواہیں تو حکومت ادا کر رہی ہے مگر کام نجی مفادات کے لیے لیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بدعنوانی کی ایک نئی شکل ہے بلکہ سرکاری اداروں کو کمزور کرنے کی سازش بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکوں سے لیے گئے قرضوں اور گندم کی خریداری پر آنے والے 70 فیصد سود کی ادائیگی بھی سرکاری خزانے سے کی جا رہی ہے، جو عوام کے ٹیکسوں کا کھلا ضیاع ہے۔محمد جاوید قصوری نے سوال اٹھایا کہ حکومت پنجاب کے ترجمان عوام کو بتائیں کہ ان نجی کمپنیوں کے اصل مالکان کون ہیں اور انہیں کن بنیادوں پر یہ غیر معمولی مراعات دی جا رہی ہیں۔؟۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کسان سے براہ راست گندم خریدنے اور اپنی ہی مقرر کردہ 3500 روپے فی من سپورٹ پرائس دینے سے بھی گریزاں ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں روپے نجی کمپنیوں کے ذریعے مخصوص طبقے کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب بھر کے کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں اور انہیں اپنی گندم سرکاری اعلان کردہ نرخ سے کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے زرعی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی دراصل کسانوں کو دیوار سے لگانے اور مڈل مین مافیا کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بجلی کے بلوں میں آئی پی پیز کے ذریعے عوام کو لوٹا گیا اور اب پٹرولیم لیوی کے نام پر مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ یہ سب اقدامات عوام دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد عام آدمی کو مزید معاشی دباؤ میں ڈالنا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ عوام ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور جماعت اسلامی کی نظام کی تبدیلی کی تحریک کا حصہ بنیں۔ ملک کو کرپشن، مافیا کلچر اور استحصالی نظام سے نجات دلانے کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، اور یہی وقت ہے کہ قوم اپنے مستقبل کے لیے درست فیصلہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں