مانچسٹر (رپورٹنگ آن لائن)مانچسٹر سٹی کے ہیڈ کوچ اینزو ماریسکا نے کہا ہے کہ پریمیئر لیگ کی جانب سے کلب پر عائد 115 الزامات میں سے بیشتر ثابت ہونے کے باوجود ٹیم کے کھلاڑی پْراعتماد ہیں اور بیرونی تنقید پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے فٹ بال پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلش پریمیئر لیگ (ای پی ایل)کی جانب سے جاری رپورٹ میں کلب پر 83 کروڑ پاؤنڈ سے زائد کی خفیہ مالی معاونت چھپانے کے لیے مبینہ طور پر جعلی معاہدے استعمال کرنے کا الزام سامنے آیا تھا۔ اس پیش رفت کے 9 روز بعد کلب کے بین الاقوامی کھلاڑی جمعرات کو دوبارہ تربیت کے لیے واپس آئے۔
اینزو ماریسکا نے کلب کے ایک انٹرویو میں کہا کہ کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند ہے اور وہ لیگ میں سرفہرست ہونے کے باعث آئندہ مقابلوں کے لیے پْرجوش ہیں۔ ان کے مطابق ٹیم کی توجہ ان معاملات پر ہے جنہیں وہ اپنے کھیل کے ذریعے کنٹرول کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھلاڑی جانتے ہیں کہ ان کے اردگرد تنقید اور شور موجود ہے، تاہم ان کی توجہ اتوار کو لیورپول کے خلاف میچ جیتنے اور اینفیلڈ میں شائقین کے ساتھ مل کر کامیابی حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔ اینزو ماریسکا نے مزید کہا کہ انہیں خود بھی اطمینان ہے اور کھلاڑیوں کو کلب پر مکمل اعتماد ہے۔مانچسٹر سٹی نے الزامات کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے اور کلب نے اپنی بے گناہی پر قائم رہنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ٹیم کے اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ نے بھی اتحاد اور مثبت سوچ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مانچسٹر سٹی ان کے لیے ایک خاص کلب ہے اور وہ اس کے شائقین سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے اور کامیابی کے لیے مل کر کوشش جاری رکھنی چاہیے۔دوسری جانب ناٹنگھم فارسٹ کے کوچ اولیور گلاسنر نے کہا کہ اس معاملے کا حتمی فیصلہ جلد ہونا چاہیے، کیونکہ ایسے تنازعات پریمیئر لیگ کی ساکھ اور شائقین کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ لیگ کی ساکھ اور شفافیت برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔
کوونٹری کے کوچ فرینک لیمپارڈ نے بھی مانچسٹر سٹی کے ممکنہ اعزازات واپس لیے جانے کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کے لیے جیتے گئے اعزازات ان کی ذاتی تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں، جنہیں محض کسی فیصلے سے ان کی یادوں سے نہیں مٹایا جا سکتا۔مانچسٹر سٹی کو تاحال ان الزامات پر سزا نہیں سنائی گئی، جبکہ کلب کی اپیل اور حتمی فیصلے کے حوالے سے صورت حال آئندہ دنوں میں مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔









