خرم دستگیر 10

پاکستان کو معاشی چیلنج درپیش مگر حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں ‘ خرم دستگیر

لاہور( رپورٹنگ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ سفارتی اور عسکری کامیابیوں کے باوجود پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج معیشت اور روزگار کے شعبے میں درپیش ہے تاہم موجودہ حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں۔،گزشتہ 14 ماہ کے دوران پاکستان میں ایک معجزاتی تبدیلی آئی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ عالمی سفارتکاری میں بھی ایک موثر اور فیصلہ کن کردار حاصل کیا۔

ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان ایک تقسیم شدہ، مایوس اور عالمی سطح پر نظر انداز کیا جانے والا ملک دکھائی دیتا تھا، لیکن موجودہ قیادت کے فیصلوں نے صورتحال تبدیل کردی۔انہوں نے کہاکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ حالیہ سفارتی پیشرفت میں پاکستان کا کردار نہیں بلکہ قطر کا کردار تھا تاہم قطر کے ترجمان نے خود واضح کیاکہ اس پورے عمل میں پاکستان ہی مرکزی ثالث رہا۔خرم دستگیر نے کہاکہ سفارتی اور عسکری کامیابیوں کے باوجود پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج معیشت اور روزگار کے شعبے میں درپیش ہے۔ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا سب سے اہم قومی مسئلہ ہے۔

روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے اور اس سلسلے میں توانائی کی بلند قیمتیں اور ٹیکس نظام بڑی رکاوٹ ہیں۔پاکستان کو زیادہ آزاد معاشی پالیسیوں کی طرف جانا ہوگا اور معیشت کو مزید کھولنا ہوگا۔خرم دستگیر نے کہاکہ پاکستان کے دوست ممالک خصوصا سعودی عرب سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں لیکن پاکستان ان کے سامنے بڑے اور قابل عمل منصوبے پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔سعودی عرب کئی برسوں سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے آمادہ ہے لیکن پاکستان ابھی تک مناسب منصوبے پیش نہیں کر سکا۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ تخلیقی سوچ اور منصوبہ بندی کی کمی ہے۔موجودہ حکومت کو سیاسی استحکام حاصل ہے اور یہی وقت ہے کہ مشکل مگر ضروری معاشی اصلاحات کی جائیں۔

چونکہ حکومت کو مکمل سیاسی اور ادارہ جاتی حمایت حاصل ہے، اس لیے وزیراعظم شہباز شریف وہ تمام اصلاحات نافذ کر سکتے ہیں جن سے عام سیاستدان غیر مقبولیت کے خوف سے گریز کرتے ہیں۔گلگت بلتستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)کو وہاں حکومت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ عوام نے بڑی تعداد میں پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔تاہم وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ موقف کے بعد غالباًمسلم لیگ (ن)اس سمت میں متحرک نہیں ہے۔آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو پورے آزاد کشمیر کے عوام کی نمائندہ جماعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں