لاہور: (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے وراثتی سرٹیفکیٹ سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وراثتی جائیداد کی مالیت اپیل کے فورم کے تعین میں مؤثر نہیں ہوتی، جسٹس راحیل کامران شیخ نے واضح کیا کہ جانشینی (سکسیشن) سرٹیفکیٹ سے متعلق مقدمات میں اپیل کا فورم سکسیشن ایکٹ کے تحت ہی طے کیا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سکسیشن سرٹیفکیٹ کے کیسز پر عام دیوانی مقدمات کی مالی حد لاگو نہیں ہوتی، کیونکہ سکسیشن ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جو دیگر عام قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے محض مالی دائرہ اختیار کی بنیاد پر اپیل واپس کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا اور یہ ایک واضح قانونی غلطی ہے۔
ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی درخواست منظور کر لی اور جانشینی سرٹیفکیٹ سے متعلق اپیل کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ہدایت کی کہ اپیل کو اصل نمبر پر بحال کر کے اس کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ وراثتی مقدمات میں اپیل کے فورم سے متعلق پائے جانے والے قانونی ابہام کو دور کرنا ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات میں درست قانونی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔








