اعظم نذیرتارڑ 13

ملک میں اکثریت اور اقلیتوں کے حقوق کیلئے کام کررہے ہیں، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں اکثریت اور اقلیتوں کے حقوق کیلئے کام کر رہے ہیں۔

مینارٹی رائٹس فورم کے زیر اہتمام جسٹس اے ار کارنیلیس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری کا ہم سب نے حلف لے رکھا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اگرسب اپنا کردارادا کریں تواکثریت اوراقلیت سب خوش ہوں گے، بطوروزیر انسانی اقلیتوں کے حقوق کے لیےکام کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیرقانون کا کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری ہم سب پرفرض ہے، فلحال 28 ویں ترمیم کے اثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پہلے پارلیمنٹ میں موجود اپنے اتحادیوں سے مشاورت کریں گے ، جب بھی اتحادیوں کی طرف سے سگنل موصول ہوگا پھر رہنمائی بھی ہوگی اور مشاورت بھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم مخلوط حکومت میں ہیں، عام قانون سازی بھی مشاورت کے بغیر نہیں کرتے تو آئینی ترمیم کیسے مشاورت کے بغیر کرسکتے ہیں، سارے سٹیک ہولڈر ملکر بیٹھیں گے، کچھ ایشوز ایسے ہیں جن پر اتفاق رائے ضروری ہے۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ 2009 میں بھی اتفاق رائے ہوگیا تھا اب بھی کوئی قومی ڈائیلاگ ہوا تو اس پر اتفاق رائے پیدا کریں گے، کچھ سلسلہ جاری بھی ہے اور آگے بھی یہ باتیں ہوتیں رہے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جب بھی کوئی ترمیم ائے گی پہلے پارلیمنٹ میں موجود حلیف جماعتوں سے مشاورت ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ بھی واضح نہیں ہے ، ڈرافٹ بننے پر ہی ترمیم کے خدوخال واضح ہوتے ہیں، وفاق کو چلانے کے لیے کچھ مسائل درپیش ہیں، کچھ ایشوز بھی ایسے ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن نے بھی جو فارمولا دیا اس میں مین ایٹم بڑھتی ہوئی آبادی ہے، ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ دنیا کی دوڑ میں شامل ہونا ہے، اِس طرح کئی علاقائی یا صوبائی مطالبات ہیں جن میں سرائیکی صوبے کی بھی بات ہوتی ہے ۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ کہتے ہیں کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے، جو تجویز وہ لائے وزیراعظم نے اس پر اتفاق رائے پیدا کی ذ مہ دار ی سونپی تھی، شہباز شریف حکومت میں ہیں اور صدر دوسری بڑی جماعت سے ہیں یہ بیٹھیں گے تو مشاورت آگے بڑھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں