کراچی(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا تاریخی علاقہ لیاری آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایک جانب شہری 18 سے 20 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب پانی، سیوریج، صفائی اور تباہ حال انفرااسٹرکچر نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ پیپلز پارٹی کی طویل صوبائی حکمرانی کے باوجود لیاری کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حکمرانوں کو اربوں روپے کے ترقیاتی اعلانات اور منصوبوں کا حساب دینا ہوگا۔
آٹھ چوک لیاری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ آج وہ لیاری میں موجود ہیں تاکہ یہاں کے عوام کے مسائل اور ان کی آواز کو کراچی سمیت پورے ملک تک پہنچایا جاسکے۔ لیاری محنت کشوں کا علاقہ اور کھیلوں کے حوالے سے اپنی الگ شناخت رکھتا ہے، لیکن افسوس کہ آج اس علاقے کی پہچان کھیل کے بجائے لوڈشیڈنگ بن چکی ہے۔ انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے لیاری کے عوام سے بلند و بانگ وعدے کیے تھے، پنجاب میں مریم نواز نے بھی بجلی مفت فراہم کرنے کے اعلانات کیے، مگر انتخابات سے پہلے کیے گئے وعدوں کے بارے میں آج لیاری کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ وہ کہاں گئے؟انہوں نے کہا کہ لیاری کے بعض علاقوں میں 24 گھنٹوں کے دوران صرف چار سے چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ 18 سے 20 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ بجلی کی طویل بندش سے بزرگوں، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بجلی نہ ہونے کے باعث گھروں میں پانی کی موٹریں اور دیگر مشینیں بھی نہیں چل پاتیں، جس سے پانی کی فراہمی کا مسئلہ مزید سنگین ہوجاتا ہے۔ شہریوں کو نہ دن کا سکون میسر ہے اور نہ رات کا چین۔
منعم ظفر نے کہا کہ کے الیکٹرک ایک عوامی سہولت فراہم کرنے والے ادارے کے بجائے مافیا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ عوام کو بھاری بھرکم بل بھیجے جاتے ہیں، اس کے باوجود بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے نام پر شہریوں کو مسلسل اذیت میں مبتلا رکھا گیا ہے۔ بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو بھی لوڈشیڈنگ کی سزا دی جارہی ہے، جبکہ چند افراد کی بجلی چوری یا عدم ادائیگی کی بنیاد پر پورے علاقے کی بجلی بند کردینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر میں لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور کے الیکٹرک کی کارکردگی، مالی معاملات اور بجلی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کا شفاف فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کے الیکٹرک کی نجکاری اور حصص کی فروخت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نجکاری کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی اور کراچی کو لوڈشیڈنگ سے نجات ملے گی، لیکن شہر آج بھی اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ان کے بقول کے الیکٹرک کے اکثریتی حصص کی فروخت کے باوجود شہریوں کو بجلی کی بنیادی سہولت میسر نہیں، جبکہ ادارے کو اربوں روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کے الیکٹرک کو 64 ارب روپے کی سبسڈی کس مد میں دی جارہی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو نجکاری کے بعد سے بھاری رقوم ملنے اور مختلف مدات میں وصولیوں کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں ملا۔ انہوں نے سبسڈی، سرکاری ادائیگیوں اور نجکاری کے تمام معاملات کا حساب عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔منعم ظفر نے کہا کہ کے الیکٹرک کی صورتحال کی ذمہ داری پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت میں ان جماعتوں کی نمائندگی اور ماضی میں کیے گئے فیصلوں کے باوجود کراچی کے بجلی بحران کا مستقل حل نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے حصص کی فروخت اور نجکاری کے فیصلوں کے ذمہ داروں کو بھی جواب دینا ہوگا۔ جماعت اسلامی اس معاملے پر شہریوں کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھا رہی ہے اور کے الیکٹرک کے خلاف اس کے تین مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ اس مقصد کے لیے جماعت اسلامی نے باقاعدہ ڈیسک قائم کر رکھی ہے اور عوام کے تعاون سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 18 سال سے سندھ میں حکمرانی کر رہی ہے، جبکہ حکمران اقتدار کے مزے لے رہے ہیں اور لیاری کے عوام بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔
عوام مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سے پریشان ہیں، لیکن حکمران طبقے کی شاہ خرچیاں اور اللے تللے جاری ہیں۔ وڈیرے اور جاگیردار عوام کا خون چوس رہے ہیں اور عوامی مسائل پر حکمرانوں کے بیانات عملی اقدامات کے بغیر مذاق کے مترادف ہیں۔منعم ظفر نے لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے تحت اعلان کردہ 25 ارب 28 کروڑ روپے کے پیکیج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم کے اعلان کے باوجود لیاری کی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آتی۔ لیاری کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور منصوبے پر اب تک کیا کام کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ 2022ء میں لیاری کے لیے 3 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن آج تک عوام کو اس رقم کے استعمال کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ لیاری کو روڈ کٹنگ کی مد میں ایک ارب 45 کروڑ روپے ملے، لیکن یہ رقم کہاں خرچ ہوئی؟ ہر یونین کمیٹی کے لیے چار کروڑ روپے مختص ہونے کے باوجود ترقیاتی کاموں کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ یو سیز کے فنڈز سمیت مجموعی طور پر 52 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا حساب بھی عوام کو دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ ارب روپے کے ترقیاتی کام مکمل ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے، تو بتایا جائے کہ یہ رقم کہاں اور کن منصوبوں پر خرچ ہوئی؟منعم ظفر نے مطالبہ کیا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزیر ناصر شاہ اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ لیاری کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ لیاری کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اربوں روپے کے اعلانات کے باوجود ان کا علاقہ بدستور تباہ حال کیوں ہے اور کیا ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر تو نہیں ہوگئے؟ جماعت اسلامی اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائے گی اور عوام کے سوالات کے جواب لیے بغیر خاموش نہیں بیٹھے گی۔انہوں نے حیدرآباد میں حال ہی میں تعمیر ہونے والی سڑک کے حوالے سے کھمبوں کی موجودگی پر ہونے والی بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ترجمان نے بھی اس نام اور صورتحال پر معذرت کی تھی، جبکہ وزیراعلیٰ نے اسے گریٹر پلان کا حصہ قرار دیا تھا۔ منعم ظفر نے سوال کیا کہ اگر کھمبو والی شاہراہ گریٹر پلان کا حصہ ہے تو کیا لیاری کا کھنڈرات میں تبدیل ہونا بھی اسی گریٹر پلان کا حصہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکمران کراچی کے عوام کو منصوبوں کے نام پر دھوکہ دینے کے بجائے بنیادی مسائل حل کریں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کراچی میں آج بھی پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ 22 سال گزرنے کے باوجود کے فور منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے سوال کیا کہ شہریوں کو پانی فراہم نہ کرسکنا کیا حکمرانوں کا گریٹر پلان ہے؟ کراچی سرکلر ریلوے بھی طویل عرصے سے بحال نہیں ہوسکی، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں اور صفائی کا نظام بہتر نہیں بنایا جاسکا۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 78 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا تعلیم سے محروم ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک طرف بچے تعلیم سے محروم ہیں، دوسری جانب کراچی کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے، پانی کی فراہمی کا نظام ناکام ہے اور سرکلر ریلوے بحال نہیں ہوسکی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی وہ گریٹر پلان ہے جس کے دعوے کیے جاتے ہیں؟منعم ظفر نے کہا کہ کچرا اٹھانے کی ذمہ داری سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو دی گئی ہے، لیکن شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کی صورتحال ابتر ہے۔ اگر ناظم آباد اور دیگر علاقوں میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں تو سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ جواب دے۔ ان کے مطابق بورڈ کا بجٹ 45 ارب روپے ہے۔
اگر کراچی کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے جائیں تو ہر یونین کمیٹی کو ماہانہ ایک کروڑ روپے فراہم کیے جاسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یونین کمیٹیوں کے لیے مختص رقم کہاں خرچ ہورہی ہے؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ صفائی کے فنڈز کرپشن کی نذر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹاؤنز اور یونین کمیٹیوں کو اختیارات نہیں دیے جارہے۔ تمام اداروں کے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھ کر بلدیاتی نظام کو مفلوج کردیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرز حکمرانی میں بلدیاتی اداروں کو حقیقی معنوں میں بااختیار نہیں بنایا جارہا، جس کے باعث شہریوں کے مسائل حل نہیں ہورہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل حل ہوسکیں۔منعم ظفر نے الزام عائد کیا کہ لیاری میں منشیات فروشوں کا راج ہے اور انہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیاری جیسے محنت کشوں کے علاقے میں نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، لیکن اس حوالے سے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔انہوں نے کراچی اور سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال جنوری سے دسمبر تک کراچی میں کتوں کے کاٹنے کے 40 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ صوبے بھر میں ایسے واقعات کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کرگئی اور تقریباً 38 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان کے مطابق ریبیز کے مریضوں کے علاج کے لیے اسپتالوں میں ویکسین کی عدم دستیابی بھی تشویشناک ہے۔ کتے کے کاٹنے کے بعد مریض اسپتال پہنچتے ہیں تو بعض اوقات ویکسین دستیاب نہیں ہوتی، جس کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت آوارہ کتوں کے مسئلے کا مستقل حل نکالے، کتوں کے کاٹنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور تمام سرکاری اسپتالوں میں ریبیز ویکسین کی دستیابی یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں شہریوں کو اس بنیادی مسئلے سے دوچار ہونا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔منعم ظفر نے کہا کہ جماعت اسلامی اختیار نہ ہونے کے باوجود کراچی کے مختلف علاقوں میں عوامی خدمت کا کام کررہی ہے۔ لیاری میں جماعت اسلامی کا کوئی ٹاؤن یا یونین کمیٹی نہیں، اس کے باوجود جماعت اسلامی کے سابق رکن سندھ اسمبلی نے علاقے میں خدمت کی مثال قائم کی۔ جماعت اسلامی کی قیادت میڈیکل سینٹرز اور شفاخانے چلا رہی ہے، جبکہ آنکھوں کے موتیے کے مفت آپریشنز کے ذریعے ہزاروں افراد کی بینائی بحال کرنے میں معاونت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ٹیم نے لیاری کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ جماعت اسلامی کی مسلسل کوششوں کے باعث شہر کی سڑکوں کی بہتری پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو شہر کی تنگ گلیوں میں پیور بلاک کی سڑکیں تعمیر کرنے اور انہیں درست کرنے کی جانب توجہ دینا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کام سے حکمران خوفزدہ ہیں، جبکہ نارتھ ناظم آباد ٹاؤن نے گزشتہ تین سال میں نمایاں ترقیاتی کام کیے ہیں۔ جماعت اسلامی بلدیاتی حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے بتایا کہ عیدگاہ سے گول مارکیٹ اور عباسی شہید اسپتال سے خلافت چوک تک سڑکوں کے منصوبوں کا افتتاح کیا گیا، جبکہ نارتھ ناظم آباد کے تین نمبر علاقے میں پانچ کلومیٹر طویل سڑکوں کا افتتاح حافظ نعیم الرحمن نے کیا تھا۔ ان کے مطابق ترقیاتی کاموں کے بعد علاقے میں بہتری آئی ہے، تاہم سیوریج کا مسئلہ اب بھی بڑے ترقیاتی کاموں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ سیوریج کا نظام بہتر بنانا صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں کی ذمہ داری ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا بجٹ 47 ارب روپے ہے، اس کے باوجود شہر میں نکاسی آب کے مسائل برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نارتھ ناظم آباد ٹاؤن نے سیوریج کے مسائل پر اپنی سطح پر 55 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں عائد اضافی ٹیکسوں کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے۔ اس معاملے پر جماعت اسلامی اور حکومت کی کمیٹیاں قائم ہیں اور فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے ملاقات بھی طے ہے۔ اضافی ٹیکسوں کے خاتمے کے لیے جلسے، جلوس، احتجاج اور دستخطی مہم جاری رکھی جائے گی، جبکہ عوام میں اس حوالے سے آگاہی بھی پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے 42 شہروں میں دھرنے دیے گئے اور اس تحریک کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی وصولی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک لیٹر پیٹرول پر 80 سے 85 روپے تک لیوی کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی اس کے خلاف بھی اپنی تحریک جاری رکھے گی۔منعم ظفر نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے تمام علاقوں کے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ ملیر، گڈاپ، ابراہیم حیدری اور شہر کے دیگر تمام علاقے کراچی کا حصہ ہیں اور وہاں رہنے والے شہریوں کو بھی عزت، بنیادی سہولیات اور بہتر زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیاری کے عوام کا مقدمہ ہر فورم پر لڑا جائے گا، ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کا حساب لیا جائے گا اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو عوام کے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔








