عدالت 12

شرجیل میمن سمیت 6 ملزمان اسپتال سے شراب برآمدگی کیس میں 8 سال بعد بری

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ضیاء الدین اسپتال کے کمرے سے مبینہ شراب برآمدگی کے مقدمے کا 8 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سمیت 6 ملزمان کو بری کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد موجود نہیں۔بری ہونے والے دیگر ملزمان میں مشتاق، شکر دین، محمد جان، حبیب اللہ اور نسیم شجاع شامل ہیں۔

مقدمے میں پراسیکیوشن ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا تھا کہ برآمد شدہ بوتلوں میں شراب کے بجائے شہد اور زیتون کا تیل تھا اور فرانزک تجزیے میں الکحل کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ شرجیل میمن کی وکیل عروشہ میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ملزمان کو بری کیا ہے۔ ان کے مطابق ملزمان کے طبی معائنے بھی کرائے گئے تھے، جن کے نتائج کلیئر آئے تھے۔

پولیس کے مطابق 2018 میں اْس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ضیاء الدین اسپتال کا دورہ کیا تھا، جہاں زیر علاج شرجیل میمن کے کمرے سے مبینہ طور پر بوتلیں برآمد ہوئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔شرجیل انعام میمن نے مقدمے میں حاضری سے استثنیٰ حاصل کر رکھا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں