کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں 20 سے زائد لاپتا افرادکی کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سچل، محمود آباد اور جمشید کوارٹرز کے علاقے لاپتا ہونے والے تین شہری گھر واپس آگئے۔
درخواستگزاروں اور تفتیشی افسران نے عدالت کو آگاہ کردیا۔ عدالت نے گھر واپس آنے والے شہریوں کی بازیابی سے متعلق تین درخواستیں نمٹا دیں۔ شہریوں میں مبارک شاہ، زاہد شاہ اور عرفان خان شامل ہیں۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ 17 گمشدہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر تحقیقات جارہی ہیں۔ لاپتا افراد میں فرحان، کاشف علی، شاہد ارمان، مرتضی احمد، جنید الدین، ریاض خان، مزمل، ثاقب، خالد حسین ، ثمر علی، لاپتا افراد میں مرزا ریاض حسین، زمان خان، سید فخرالدین، زاہد علی اور گل نواز شامل ہیں۔
درخواستگزاروں کے وکلا نے موقف دیا کہ شہری تھانی بنی بخش، سچل، بن قاسم سائٹ سپر ہائی وے اور دیگر علاقوں سے لاپتا ہوگئے۔ لاپتا افرادکی بازیابی کا حکم دیا جائے۔ تفتیشی افسران نے لاپتا افراد کا سراغ لگانے کے پیش رفت رپورٹس عدالت میں جمع کروا دیں۔ جسٹس محمد سلیم جیسر مے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات میں کیا پیش رفت ہوئی ہیں؟ گمشدہ افراد کا پتہ کیسے چلے گا؟تفتیشی افسر نے بتایا کء 3، 3 جے آئی ٹیز اجلاس منعقد ہوچکے ہیں، مختلف اداروں کو خطوط لکھے ہیں۔ وفاقی اداروں کی طرف سے جواب آنے تک مہلت دی جائے۔ عدالت نے 25 جون کو پولیس، محکمہ داخلہ سندھ اور دیگر سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلیں۔









