سندھ ہائی کورٹ 35

درخواست گزار خود واٹر کارپوریشن کا ملازم رہ چکا ہے۔ درخواست گزار کو وارنٹو رٹ کے لئے ضروری عناصر ثابت نہیں کرسکے،عدالت

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے سی ای او واٹر کارپوریشن کی تقرری کیخلاف درخواست مسترد کردی۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سی ای او کی تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ کراچی واٹر کارپوریشن کے سی ای او کی تقرری غیر قانونی طریقے سے کی گئی۔ سی ای او کی تقرری کے لئے منعقدہ بورڈ اجلاس میں احمد علی صدیقی خود بھی موجود تھے۔

احمد علی صدیقی نے سی ای او کے عہدے کے لئے اپنے حق میں ووٹ دیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کے مطابق 24 جولائی 2024 کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں سی ای او کی تقرری کا معاملہ زیر غور آیا تھا۔ احمد علی صدیقی اس وقت کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے اور بطور سیکریٹری اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق سی ای او کی تقرری کے مرحلے پر متعلقہ افسر کو اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کی گئی۔

درخواست گزار تقرری کے عمل میں قانونی خامی یا بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کرسکے۔ درخواست گزار خود واٹر کارپوریشن کا ملازم رہ چکا ہے۔ درخواست گزار کو وارنٹو رٹ کے لئے ضروری عناصر ثابت نہیں کرسکے۔ درخواستوں کو ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کیا جاتا ہے۔ عدالت نے سی ای او واٹر کارپوریشن کی تقرری کیخلاف درخواست مسترد کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں