کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کے کم از کم نمبروں کی شرط کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ داخلہ پالیسی اور میرٹ طے کرنا پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونس لکا قانونی اختیار ہے۔عدالت میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مقف اختیار کیا کہ ایم بی بی ایس میں داخلے کے لیے 55 فیصد جبکہ بی ڈی ایس کے لیے 50 فیصد نمبروں کی شرط عائد کی گئی ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہ گئی ہیں۔
وکیل نے بتایا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ نے کم از کم نمبروں کی شرح 45 اور 40 فیصد مقرر کرنے کی سفارش کی تھی۔پی ایم ڈی سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں 14 ہزار 300 امیدوار مطلوبہ نمبرز حاصل کر چکے ہیں، جبکہ صوبے میں 4400 نشستوں کے مقابلے میں اہل امیدواروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ سرکاری میڈیکل کالجز کی تمام نشستیں پر ہو چکی ہیں جبکہ نجی کالجز میں 284 نشستیں زیادہ فیس کے باعث خالی ہیں۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانون کے تحت پی ایم ڈی سی کو داخلہ پالیسی اور معیار مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
میڈیکل تعلیم ایک مقدس پیشہ ہے، اس لیے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ سپریم کورٹ بھی خالی نشستوں کی بنیاد پر میرٹ کم کرنے کو درست قرار نہیں دے چکی۔ خالی نشستوں کا حل معیار کم کرنا نہیں بلکہ مستحق طلبہ کو سہولت فراہم کرنا ہے۔عدالت نے سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز رولز 2005 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نجی اداروں پر کم از کم دس فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنا لازم ہے، مگر اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
عدالت نے حکم دیا کہ پی ایم ڈی سی ہر سال پیشگی داخلہ پالیسی اور شیڈول جاری کرے اور بعد ازاں مقررہ معیار میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ سندھ حکومت کو بھی ہدایت کی گئی کہ خالی نشستوں کے معاملے پر پی ایم ڈی سی کے ساتھ مل کر جامع پالیسی مرتب کرے، جبکہ نجی میڈیکل کالجز دس فیصد طلبہ کو مفت تعلیم یقینی بنائیں۔









