کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ نے مکہ ٹیرس کیخلاف درخواست پر ایس بی سی اے اور بلڈرز کیخلاف کی جانے والی کارروائی کی رپورٹ پیش اور بلڈر کو تمام مکینوں کو کرائے پر منتقل کرنے کا انتظام کرنے کا حکم دیدیامزید سماعت بدھ تک ملتوی کردی ۔
پیرکوسندھ ہائی کورٹ میں جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں بینچ نے مکہ ٹیرس کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بتائیں، غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے کیا کیا؟ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس دیئے کہ اگر پلرز گرائے گئے تو باقی عمارت کا کیا ہوگا؟ پوری عمارت کے بجائے اضافی جگہ کیسے گرائی جائے گی؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ماہر تعمیرات عدالت میں پیش ہوئے۔ ماہر تعمیرات ایس بی سی اے نے بتایا کہ6، 7فٹ اوپن اسپیس اضافی عمارت میں شامل ہے۔
تجاوزات سے 7،8فلیٹس متاثر ہوں گے۔ دونوں اطراف کے فلیٹس متاثر ہوں گے۔ بعض کے بیڈ رومز جبکہ سب کے واش روم توڑنا پڑیں گے۔ جسٹس محمد فیصل کمال عالم نے کہاکہ بلڈر کہاں ہے؟ بلڈر کے وکیل نے موقف دیا کہ بلڈر کی طبعیت خراب ہے، موجود نہیں۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس دیئے کہ جب عمارت کا کمپلیشن پلان ہی نہیں بنا تو آگے کیسے بیچ دی؟ ایس بی سی اے نے بتایا بارہ فلیٹس میں سی او ایس شامل ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اضافی جگہ خالی کرانے کے لیے پوری عمارت خالی ہوگی۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس میں کہا کہ بلڈر تمام مکینوں کو کرائے پر منتقل کرنے کا انتظام کرے۔ کرائے کے گھر کا خرچہ بلڈر برداشت کرے گا۔ عمارت میں اضافی جگہ گرانے کا خرچہ بھی بلڈر ادا کرے گا۔
مکینوں کو 15 روز میں متبادل کرائے پر منتقل کیا جائے گا۔ اضافی جگہ کم ہو گی تو عمارت کی قیمت بھی کم ہو جائے گی۔ بلڈر مکینوں کو اضافی رقم بھی واپس کرے گا۔ بلڈر سے پوچھ کر بتائیں کہ، اگر خود سے یہ سب کرے تو بہتر ہوگا۔ اگر بلڈر یہ سب کرنے کے لیے راضی نہیں تو پھر عدالت فیصلہ دے گی۔ ایسا فیصلہ جاری کریں گے کہ بلڈرز آئندہ کاروبار نہیں کر سکے گا۔ عدالت نے انکوائری رپورٹ اور بلڈرز وکیل سے عدالتی تجاویز پر جواب طلب کرلیں۔عدالت نے ایس بی سی اے افسران اور بلڈر کیخلاف کارروائی رپورٹ بھی طلب کرلی۔ عدالت مکہ ٹیرس کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔









