سندھ ہائی کورٹ 7

سندھ ہائیکورٹ نے ناظم آباد میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات کیخلاف درخواست پر ایس بی سی اے سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو ناظم آباد کے مختلف رہائشی علاقوں میں مبینہ غیر قانونی کمرشل عمارتوں کی تعمیرات کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کا مکمل میکنزم موجود ہے۔ ایس بی سی اے کے پاس کارروائی کے لیے افسران اور عملہ بھی موجود ہے، تو وہ کارروائی کیوں نہیں کر رہے؟درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایس بی سی اے کو متعدد درخواستیں دی گئیں، تاہم کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

کاغذات میں بعض عمارتوں کے حوالے سے درج ہے کہ انہیں سیل کردیا گیا ہے، لیکن عملی طور پر غیر قانونی تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس بی سی اے صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہے، جبکہ ناظم آباد کے رہائشی علاقوں میں مجموعی طور پر 34 غیر قانونی کمرشل عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے ایس بی سی اے کا باقاعدہ میکنزم موجود ہے تو سندھ ہائیکورٹ کس طرح براہ راست غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا حکم دے سکتی ہے۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے ایس بی سی اے سے دوبارہ رجوع کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں