مفتاح اسماعیل 10

سندھ کے مسائل کی ذمہ داری کسی سابق فوجی یا سیاسی حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی،مفتاح اسماعیل

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مفتاح اسماعیل نے سندھ حکومت، بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18 برس سے سندھ میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، اس لیے موجودہ مسائل کی ذمہ داری کسی سابق فوجی یا سیاسی حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک برطانوی جریدے کی حالیہ رپورٹ، جس میں دنیا کے 173 شہروں کا تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا، اس کے مطابق کراچی 170ویں نمبر پر ہے، جو ملک کے سب سے بڑے شہر کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی نصف آبادی کو صاف پانی میسر نہیں، جبکہ بلدیہ ٹاؤن سمیت کئی علاقوں میں لوگوں کے گھریلو اخراجات کا بڑا حصہ پانی کی خریداری پر صرف ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تعلیم اور صحت کی صورتحال انتہائی خراب ہے، پولیس عوام کے لیے رحمت کے بجائے زحمت بن چکی ہے اور کراچی کو آج بھی تقریباً 15 ہزار بسوں کی کمی کا سامنا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ گزشتہ پانچ برس سے مکمل نہیں ہو سکی، جو بدانتظامی اور مبینہ کرپشن کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے، جہاں تقریباً 17 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں، مگر اساتذہ اور ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں اور پنشن ادا نہیں کی جا رہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بعض تجربہ کار اساتذہ کو فارغ کرکے من پسند افراد کو تعینات کیا گیا، جبکہ وائس چانسلر بھی ہفتے میں صرف دو روز کراچی آتے ہیں۔انہوں نے صدر مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزیر تعلیم اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کے لیے خصوصی گرانٹ جاری کی جائے اور ادارے کے مالی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ چار برس کے دوران مہنگائی میں 78 فیصد اضافہ ہوا، تقریباً 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے جا چکی ہے اور ہر دس میں سے تین پاکستانی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں.

ان کے مطابق 1960 کے بعد سرمایہ کاری کی یہ سب سے کم سطح ہے، جبکہ حکومت عوام پر مسلسل نئے ٹیکس عائد کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر عوام سے بھاری ٹیکس اور لیوی وصول کی جا رہی ہے، جس کے باعث ایندھن مہنگا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر دیگر اشیا کی طرح مناسب شرح پر ٹیکس عائد کرے تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔

انہوں نے آئل کمپنیوں کو 75 ارب روپے کی ادائیگی کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں مختلف حکومتیں آتی رہیں، مگر نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق ملک کو معاشی استحکام کے لیے اخراجات کو آمدنی کے مطابق محدود کرنا، شفاف طرزِ حکمرانی اپنانا اور تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر زور دیا کہ وہ سندھ کے عوام کو درپیش مسائل کے حل پر سنجیدگی سے توجہ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں