مراد علی شاہ 8

سندھ میں آبی ذخائر کے انتظام اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے چین کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے، مراد علی شاہ

ییچانگ، چین(رپورٹنگ آن لائن ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں آبی ذخائر کے مؤثر انتظام، سیلاب کی روک تھام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے چین کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ سندھ اور چین کے درمیان پانی کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر اتفاق کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پیر کو دریائے یانگسی پر واقع تھری گورجز ڈیم کا دورہ کیا، جہاں انہیں پن بجلی کی پیداوار، سیلاب پر قابو پانے، پانی ذخیرہ کرنے اور دریا کے انتظام کے حوالے سے چینی تجربات پر بریفنگ دی گئی۔

ان کے ہمراہ صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، جام خان شورو، محمد بخش خان مہر، معاونِ خصوصی سید قاسم نوید اور سینئر افسران پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا۔چینی حکام نے وفد کو ڈیم کی منصوبہ بندی، تعمیر اور آپریشن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کی تعمیر تقریباً دو دہائیوں میں مکمل ہوئی اور اسے 2012ء میں مکمل کیا گیا۔ ڈیم کی پن بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت 22 ہزار 500 میگاواٹ ہے، جبکہ یہ سالانہ 100 ٹیراواٹ گھنٹے سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ یہ منصوبہ صاف توانائی کی فراہمی کے علاوہ دریائے یانگسی میں سیلاب پر قابو پانے اور اندرونِ ملک آبی نقل و حمل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے پانی ذخیرہ کرنے، سیلابی صورتِ حال کو منظم کرنے اور آبی حالات کی مسلسل نگرانی کے مربوط نظام میں دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مون سون کے دوران تباہ کن سیلاب اور خشک موسم میں پانی کی قلت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے پانی کا مؤثر انتظام صوبے کی اہم ترجیح ہونا چاہیے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ تھری گورجز ڈیم کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے آبی وسائل کو معاشی ترقی، توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سندھ میں زرعی، شہری اور صنعتی ضروریات کے لیے مستقبل میں پانی کی دستیابی یقینی بنانے کی خاطر پانی ذخیرہ کرنے، سیلاب کے نقصانات کم کرنے اور آب پاشی کے نظام کو بہتر بنانے کے مؤثر حل تلاش کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت چین کے آبی انتظام کے تجربات کے ان پہلوؤں کا جائزہ لے گی جنہیں صوبے کی ضروریات کے مطابق اپنایا جاسکتا ہے۔ ان میں آبی ذخائر کا انتظام، سیلاب کی پیش گوئی، پانی کے ساتھ آنے والی مٹی اور گاد کا انتظام اور میٹھے پانی کو محفوظ کرنے کے طریقے شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے تحفظ اور ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کی خشکی کی جانب پیش قدمی روکنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے آبی منصوبوں میں ترقیاتی ضروریات اور ماحولیاتی پائیداری کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ سیلاب اور خشک سالی سے متاثر ہونے والی کمزور آبادیوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ آبی حالات کی نگرانی، خودکار آبی ذخائر کے انتظام اور دریا کے پورے طاس کے مربوط انتظام کے حوالے سے چین کے تجربات کا مطالعہ کریں تاکہ انہیں سندھ کی ضروریات کے مطابق اپنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے تھری گورجز ڈیم میوزیم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں ڈیم کی تعمیر اور آبی نقل و حمل سے متعلق دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر سید مراد علی شاہ نے ڈیم کو انجینئرنگ کا حیرت انگیز شاہکار قرار دیا۔یہ دورہ وزیراعلیٰ سندھ کے چین کے ایک ہفتے پر مشتمل سرکاری دورے کا حصہ ہے، جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ چینی حکام نے پانی کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے حوالے سے تکنیکی مہارت اور تجربات کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی۔ دورے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ اور ان کا وفد سرکاری دورے کے اگلے مرحلے کے لیے ووہان روانہ ہوگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں