سانحہ آرمی پبلک سکول 204

سانحہ آرمی پبلک سکول پر اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف فوراًپشاور پہنچے

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سانحہ آرمی پبلک سکول پر اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف فوراًپشاور پہنچے ،اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار نیشنل انٹرنل سیکیورٹی پالیسی بنائی،چوہدری نثار کی کوششوں سے نیکٹا فعال ہو، اس کا بورڈ تشکیل دیااور نیکٹا کو درکار فنڈزکی منظوری کروائی، انسداد دہشت گردی فورس بھی چوہدری نثار علی خان نے قائم کروائی اور دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام اور بروقت کاروائی کیلئے انٹیلیجنس شیئرنگ کا میکا نزم بھی تشکیل دیا ،

معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ سانحہ اے پی ایس میں ملوث 6 میں سے پانچ ملزمان کو پھانسی دی جا چکی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی،اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کےلئے ملکی تاریخ میں پہلی بار نیشنل انٹرنل سیکیورٹی پالیسی بنائی جبکہ وفاقی حکومت نے صوبوں اور سول اور فوجی اداروں سمیت ملکی سیاسی قیادت کی مشاورت سے 22نکاتی نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا،چوہدری نثار علی خان نے بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ کےلئے جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ بنانے کےلئے اقدامات کئے اور پوری کوشش کی کہ بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے دہشت گردی کے ممکنہ واقعات کو قبل از وقت روکتے ہوئے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔

چوہدری نثار کی کوششوں سے نیکٹا فعال ہوا اور نیکٹا کا بورڈ تشکیل دیااور نیکٹا کو درکار فنڈزکی منظوری کروائی،چوہدری نثار علی خان نے اپنی نگرانی میں سول حکومت اور سول اداروں سے متعلق نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد کروایا اور ریپڈ رسپانس فورس تشکیل دی جبکہ انسداد دہشت گردی فورس بھی چوہدری نثار علی خان نے قائم کروائی تھی تا کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہو فوری طور پر رسپانس دیتے ہوئے کم سے نقصان اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ د

وسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سانحہ اے پی ایس میں ملوث تمام افراد کو سزائیں ہو چکی ہیں۔ عدالتوں میں صرف ایک اپیل زیر التوا ہے۔ انہوںںے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے 6 میں سے پانچ ملزمان کو پھانسی دی جا چکی ہے جبکہ سزائے موت کے ایک ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے اسکی اپیل 2016 سے زیر التوا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں